آئین نے سپریم کورٹ کو تماشائی بننے کیلئے اختیارات نہیں دیئے عمران خان کا چیف جسٹس کوخط

سپریم کورٹ  اپنے تمام تر اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں جاری ظلم و ستم کا سدباب کرنے اور عوام کی شکایات کا جائزہ لینے کیلئے ایک یا اس سے زائد کمیشن قائم کرے

 18 ماہ کے دوران سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کیں جو  بنیادی انسانی حقوق اور انتخابی نظام کی خلاف ورزی سے متعلق تھیں:خظ  کا متن‘349صفحات  کے خط کیساتھ مختلف دستاویزات بھی منسلک 

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو پاکستان میں آئینی نظام کی تباہی کے عنوان سے ایک طویل خط لکھ دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق  عمران خان کی جانب سے لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ سے اپنے تمام تر اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں جاری ظلم و ستم کا سدباب کرنے اور عوام کی شکایات کا جائزہ لینے کیلئے ایک یا اس سے زائد کمیشن قائم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔بانی پی ٹی آئی کے خط کے ساتھ مختلف دستاویزات بھی منسلک کی گئی ہیں۔349 صفحات پر مشتمل خط میں عمران خان نے کہا میں نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کیں جوکہ ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور انتخابی نظام کی خلاف ورزی سے متعلق تھیں، درخواستوں میں سپریم کورٹ سے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی استدعا کی گئی تھی، آئین پاکستان نے سپریم کورٹ کو تماشائی بننے کیلئے اختیارات نہیں دیئے۔