فضل الرحمن احتجاجی تحریک کا الٹی میٹم

 ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کرینگے،عوام کے بجائے بڑے لوگوں کی خواہش پر ترامیم ہو رہی ہیں : مولانا فضل الرحمن
مردان (خصوصی رپورٹ)جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اپنا راستہ تبدیل نہیں کریں گے، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے، ملک کوامن، بھائی چارے اور آزادی کی علامت ہونا چاہیے تھا، عوام کو حقوق دینا حکومتوں کی ذمہ داری ہے ، آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے، عوام کی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی خواہش پر آئینی ترامیم ہو رہی ہیں،افغان پالیسی پر پاکستان کی سفارت کاری ناکام رہی، جنگ کی باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے، پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف ٹرامپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی بات کر رہے ہیں،عمران کی ذات سے نہیں اس کی پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ جامعہ اسلامیہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان ان امیدوں پر حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا ، اب جعلی اکثریت سے ترمیم کی گئی تو قانون پاس ہوا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنی جنس تبدیل کرسکتا ہے۔ 18 سال سے کم عمر کو بالغ تصور نہیں کیا جائیگا، یہ دین اسلام کے ساتھ کھلا مذاق ہے ، جے یو آئی اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ سی پیک عمران خان نے بند کیا تھا لیکن کیا اب سی پیک میں ایک اینٹ بھی لگائی گئی ؟ ، پاکستان میں مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے ،خطے میں امن کے لئے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔