روح کی تازگی

لبیب احمد
انسان اس وسیع و عریض کائنات کی ایک ایسی مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عقل، شعور، احساس، محبت اور جذبات کی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ معاشرتی زندگی گزارنے والا وجود ہے۔ اسے رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے، محبت کی طلب ہوتی ہے، اپنائیت کی خواہش ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے جو اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ بچپن میں والدین اس کا سہارا ہوتے ہیں، جوانی میں دوست اس کی طاقت بنتے ہیں، اور بڑھاپے میں اولاد اس کی امید بن جاتی ہے۔ مگر زندگی کا سفر ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان لوگوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے ہوئے درد کو کوئی نہیں پڑھ پاتا، اس کے دل کی خاموش چیخیں کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتیں، اور اس کی بے آواز دعائیں صرف ایک ذات تک پہنچتی ہیں، وہ ذات ربِ ذوالجلال والاکرام کی ہے۔

یہ تنہائی عام تنہائی نہیں ہوتی۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان کا اپنا سایہ بھی اجنبی محسوس ہونے لگتا ہے۔ خیالات منتشر ہو جاتے ہیں، امیدیں ٹوٹنے لگتی ہیں، دل بے چین ہو جاتا ہے، اور انسان اپنے وجود کے معنی تلاش کرنے لگتا ہے۔ ایسے لمحوں میں اگر کوئی سہارا باقی رہتا ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے، جو ہر حال میں اپنے بندے کے قریب رہتی ہے، اس کی پکار سنتی ہے اور اس کے دل کے راز جانتی ہے۔

دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہر چیز عارضی ہے۔ دولت ختم ہو سکتی ہے، اقتدار چھن سکتا ہے، حسن ماند پڑ سکتا ہے، جوانی ڈھل سکتی ہے، صحت بیماری میں بدل سکتی ہے، اور رشتے وقت کے ساتھ کمزور ہو سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی رحمت، اس کا کرم اور اس کی قدرت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اپنے رب پر بھروسا کرتا ہے، وہ زندگی کے مشکل ترین حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو بھی آزمائشوں سے گزارا۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے ایسی ایسی تنہائیاں دیکھیں جن کا تصور بھی مشکل ہے۔ مگر انہوں نے کبھی اپنے رب سے تعلق کمزور نہیں ہونے دیا۔ ہر آزمائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت، کامیابی اور سکون عطا فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی علامت نہیں، بلکہ بندے کے ایمان اور صبر کا امتحان بھی ہو سکتی ہے۔

جب انسان رات کی تاریکی میں جاگتا ہے، سب لوگ سو رہے ہوتے ہیں، ہر طرف خاموشی ہوتی ہے، تب اگر وہ اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے تو وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ بن جاتا ہے۔ اس وقت نہ کوئی دکھاوے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ الفاظ کی خوبصورتی کی۔ صرف ایک ٹوٹا ہوا دل اور سچا یقین کافی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے دلوں کی پکار کو رد نہیں کرتا۔

انسان اکثر دنیا والوں سے اپنی تکلیف بیان کرتا ہے، لیکن ہر شخص اس کے درد کو سمجھ نہیں سکتا۔ کچھ لوگ ہمدردی کرتے ہیں، کچھ مشورے دیتے ہیں اور کچھ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو بندے کے دل میں اٹھنے والے خیال کو بھی جانتا ہے۔ وہ آنسو گرنے سے پہلے اس کی وجہ جانتا ہے اور دعا زبان پر آنے سے پہلے اس کی قبولیت کا فیصلہ فرما سکتا ہے۔

تنہائی انسان کو خود شناسی بھی عطا کرتی ہے۔ جب وہ دنیا کے شور سے دور ہوتا ہے تو اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطیوں پر غور کرتا ہے اور اپنے رب کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل میں توبہ پیدا ہوتی ہے، عاجزی جنم لیتی ہے اور بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اسی تنہائی میں اپنی زندگی کا نیا راستہ تلاش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ذکر دلوں کا سکون ہے۔ قرآنِ مجید کی تلاوت، نماز کی پابندی، استغفار، درود شریف اور دعا انسان کے دل کو وہ طاقت دیتے ہیں جو دنیا کی کوئی چیز نہیں دے سکتی۔ جب بندہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کے دل سے خوف کم ہونے لگتا ہے، مایوسی امید میں بدل جاتی ہے اور بے چینی سکون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ انسان دنیا میں اکیلا آیا تھا اور ایک دن اکیلا ہی اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا۔ اس سفر میں نہ مال ساتھ جائے گا، نہ شہرت، نہ عہدہ، نہ طاقت۔ صرف ایمان، نیک اعمال، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی اس کے کام آئے گی۔ یہی سوچ انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھاتی ہے اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اپنی تنہائی کو گناہوں کا ذریعہ نہیں بلکہ عبادت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ وہ اپنی خلوت کو قرآن سے آباد کرتے ہیں، دعا سے اپنے دل کو منور کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اپنی روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ ایسے لوگ بظاہر اکیلے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ سب سے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ کائنات کا رب ہوتا ہے۔

ربِ ذوالجلال والاکرام کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے بندے کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ اگر بندہ ایک قدم اس کی طرف بڑھتا ہے تو وہ اپنی رحمت کے بے شمار دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر بندہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ اگر بندہ صبر کرتا ہے تو وہ اسے ایسا اجر عطا کرتا ہے جس کا اندازہ بھی ممکن نہیں۔ اگر بندہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ یا تو اس کی دعا قبول کرتا ہے، یا اس سے بہتر عطا کرتا ہے، یا کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔

زندگی کی ہر آزمائش انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے، لیکن تنہائی سب سے بڑی استاد ہے۔ یہ انسان کو بتاتی ہے کہ اصل سہارا صرف اللہ ہے، اصل عزت اسی کے ہاتھ میں ہے، اصل سکون اسی کی یاد میں ہے، اور اصل کامیابی اسی کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ دنیا کے سہارے وقتی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا سہارا دائمی ہے۔

اگر انسان اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں اپنے رب پر بھروسا کرے، اس کے فیصلوں پر راضی رہے، مشکلات میں صبر کرے، آسانیوں میں شکر ادا کرے، اور ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرتا رہے، تو کوئی تنہائی اسے توڑ نہیں سکتی۔ وہ ہر اندھیرے میں روشنی تلاش کر لے گا، ہر غم میں امید پا لے گا اور ہر آزمائش میں حکمت دیکھ سکے گا۔

آخرکار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی سب سے خوبصورت تنہائی وہ ہے جس میں انسان اپنے رب کو پا لے۔ اگر اس کے ساتھ کوئی انسان نہ ہو، اگر اس کا سایہ بھی اس کا ساتھ نہ دے، اگر اس کے خیالات بھی خاموش ہو جائیں، تب بھی وہ تنہا نہیں، کیونکہ اس کے ساتھ وہ رب ہے جو ہمیشہ زندہ ہے، ہمیشہ سننے والا ہے، ہمیشہ دیکھنے والا ہے، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے، اور اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے۔

پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اسی سے امید رکھے، اسی سے مانگے، اسی پر بھروسا کرے اور اسی کی رضا کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھے۔ جو شخص اپنے رب کو پا لیتا ہے، وہ کبھی محروم نہیں رہتا، اور جو اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے، وہ دنیا کی ہر نعمت پا کر بھی حقیقی سکون حاصل نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی یاد سے آباد دل، اخلاص سے بھرپور زندگی، صبر و شکر کی توفیق، اور ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔