فیصل ربانی
ذرا سوچیے! اگر ہم اپنے تعلیمی نظام میں میٹرک تک کے طلبہ کو میڈیکل کی بنیادی تعلیم دیں، تو کیا ہم ہنگامی حالات میں اموات کی شرح کو 30 سے 50 فیصد تک کم نہیں کر سکتے؟ ہمیں اب اپنے تعلیمی نظام پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ایک تعلیمی ایسا نظام جو صرف رٹے، نمبروں اور امتحانات کے گرد نہ گھومے، بلکہ انسانی زندگی کی حفاظت، سماجی شعور، اور عملی مہارتوں پر بھی زور دے۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم میٹرک کے ہر طالبعلم کو میڈیکل کا بنیادی علم فراہم کریں۔یعنی وہ یہ جانتا ہو کہ:زخمی ہونے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد (First Aid) کیا ہے؟خون کیسے روکا جاتا ہے؟بے ہوش شخص کو کیسے سنبھالا جاتا ہے؟CPR کیسے دی جاتی ہے؟اور عام ادویات کے فوائد و نقصانات کیا ہیں۔یہ تعلیم صرف ہنگامی حالات میں مدد کے لیے نہیں، بلکہ ایک باشعور اور محفوظ معاشرہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔مگر بدقسمتی سے ہمارا نظامِ تعلیم آج بھی محض رٹا سسٹم پر قائم ہے۔طالبعلموں کو نہ کسی ہنر کی تربیت دی جاتی ہے، نہ روزمرہ زندگی میں کام آنے والا علم۔اسی وجہ سے ہم تعلیم یافتہ مگر بیعمل افراد تیار کر رہے ہیں، جو نہ اپنی مدد کر سکتے ہیں نہ دوسروں کی۔اب ذرا تاریخ کی طرف نظر دوڑائیں ، ایک عبرت ناک اور سبق آموز مثال۔مغل بادشاہ شاہجہان کو اپنی بیوی ممتاز محل سے بڑی محبت تھی۔جب وہ بچہ پیدا کرتے ہوئے انتقال کر گئی، تو شاہجہان نے غم کے اظہار کے طور پر تاج محل تعمیر کروایا ، ایک عظیم الشان مقبرہ جو آج بھی دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے:کیا یہ محبت کا درست مظاہرہ تھا؟اگر شاہجہان کو واقعی ممتاز کی موت کا دکھ تھا، تو اس نے اس موت کی وجہ پر تحقیق کیوں نہ کروائی؟اس نے کوئی دوا دریافت کیوں نہ کی؟ کوئی اسپتال یا طبی ادارہ کیوں نہ قائم کیا؟اس نے صرف ایک یادگار بنائی اور وہ بھی صرف مرمر کی، انسانیت کی نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ ممتاز محل سے شاہجہان کے کئی بچے تھے، اور ممتاز کی وفات کے بعد شاہجہان نے مزید شادیاں بھی کیں۔تو ایسی ''محبت'' جس کے بعد بھی شادیاں اور عیش و عشرت جاری رہے، وہ درحقیقت نمود و نمائش سے زیادہ کچھ نہ تھی۔اور اس پر جو سرمایہ خرچ ہوا ،وہ اگر تعلیم، دوا یا طبی تحقیق پر لگتا، تو آج جنوبی ایشیا کی طبی تاریخ مختلف ہوتی۔ اب اسی واقعے کے بالمقابل ایک اور بادشاہ کی مثال ملاحظہ کریں ۔برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ VII کی بیوی بھی زچگی کے دوران انتقال کر گئی۔لیکن ایڈورڈ نے صرف افسوس پر اکتفا نہیں کیا۔اس نے پورے ملک کا میڈیکل سسٹم ازسرنو ترتیب دیا۔اس نے ہسپتالوں کو جدید بنایا، میڈیکل ریسرچ کو فروغ دیا، اور سب سے بڑھ کر یہ فیصلہ کیا کہ: ''میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے والا ہر بچہ میڈیکل کے بنیادی اصولوں سے لازماً واقف ہوگا۔''اسی فیصلے کے نتیجے میں آج مغربی دنیا میں ہر طالبعلم کو فرسٹ ایڈ، CPR، ابتدائی دوائوں اور زندگی بچانے کی دیگر مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج وہاں زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات تقریباً 0% ہے، جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح 30 فیصد سے زائد ہے ۔ اور اکثر اموات صرف بروقت ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ایڈورڈ نے اپنی بیوی کی موت کو زندگیاں بچانے والے نظام میں بدل دیا،جبکہ شاہجہان نے صرف ایک محل تعمیر کیا ۔ جو دیکھنے میں خوبصورت ضرور ہے، مگر کسی کی جان نہیں بچاتا۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے:ہم شاہجہان کی راہ پر چلیں؟یا ایڈورڈ کی طرح تعلیم کو زندگی کا محافظ بنائیں؟ہمارے تعلیمی نظام کو درج ذیل بنیادوں پر ترتیب دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔میٹرک تک ہر طالبعلم کو میڈیکل کی بنیادی تعلیم دی جائیفرسٹ ایڈ، CPR، عام بیماریوں اور دواؤں کا شعور سکھایا جائے۔ساتھ ہی ساتھ آئی ٹی کی ابتدائی تربیت بھی دی جائے تاکہ ہر نوجوان ڈیجیٹل دنیا سے جُڑ سکے اور طلبہ کو کم از کم ایک عملی ہنر سکھایا جائے جو ان کی زندگی میں مددگار ہویہی وہ تعلیم ہے جو ایک محفوظ، باشعور، اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد رکھتی ہے۔