بلوچستان کی پولیس میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی ایک نمایاں مثال پیش کی گئی ہے، جہاں شبانہ ارشاد ترین نے اپنی محنت، لگن اور استقلال کے بل بوتے پر سب انسپکٹر کے عہدے سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے ایس پی کے عہدے تک رسائی حاصل کی ہے۔
شبانہ ارشاد ترین کا تعلق بلوچستان سے ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کے والد پولیس میں خدمات انجام دیتے رہے، جس کی وجہ سے ان کے دل میں بھی پولیس فورس میں شامل ہونے کا خواب پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں کام کرنے کے دوران انہیں افسران کی جانب سے مسلسل حوصلہ افزائی اور معاونت حاصل ہوئی، جس نے انہیں اپنی قابلیت ثابت کرنے میں مدد دی۔ان کے مطابق، خواتین بھی دیگر شعبوں کی طرح پولیس فورس میں شامل ہو کر نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت کردار بھی ادا کر سکتی ہیں۔ شبانہ ارشاد ترین کو وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ان کی شاندار کارکردگی پر انعام سے بھی نوازا گیا۔
شبانہ ارشاد ترین کا ایس پی کے عہدے تک پہنچنا نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی خواتین کے لیے حوصلہ افزا ہے، کیونکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ محنت، عزم اور مستقل مزاجی سے خواتین بھی روایتی مردانہ شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔یہ واقعہ بلوچستان کی خواتین کی صلاحیتوں اور حوصلے کا عکاس ہے اور دیگر خواتین کو بھی پولیس یا دیگر عوامی شعبوں میں اپنی خدمات پیش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔