بھارت کی سیر کا انوکھا اختتام، برطانوی جوڑا پسندیدہ رکشہ لندن لے گیا

بھارت کی سیر کا انوکھا اختتام، برطانوی جوڑا پسندیدہ رکشہ لندن لے گیا

لندن: بھارت کی سیر کے لیے آنے والے ایک برطانوی جوڑے نے اپنے پسندیدہ آٹو رکشے سے محبت کی انوکھی مثال قائم کرتے ہوئے اسے بحری جہاز کے ذریعے برطانیہ منتقل کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی شہری ہیلن اور مک نے بھارت میں 75 روزہ سیاحتی سفر کے دوران ایک سرخ اور سیاہ رنگ کے آٹو رکشے پر مجموعی طور پر 4 ہزار 218 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ اس دوران رکشہ نہ صرف ان کے سفر کا ذریعہ بنا بلکہ دونوں کے لیے ایک یادگار ساتھی بھی بن گیا۔جوڑے نے اپنے رکشے کو پیار سے ’ٹمی دی ٹن کین‘ کا نام دیا تھا۔ اسے مزید منفرد بنانے کے لیے رکشے کے اگلے حصے پر کارٹون جیسی آنکھیں اور مسکراتا ہوا چہرہ بھی بنوایا گیا تھا، جس نے اسے ایک خاص شناخت دے دی۔

تاج محل سمیت بھارت کے مختلف مقامات کی سیر

ہیلن اور مک نے اپنے 75 روزہ سفر کے دوران اسی رکشے پر بھارت کے مختلف شہروں اور سیاحتی مقامات کا دورہ کیا۔ ان کے سفر میں آگرہ اور تاریخی تاج محل کی سیر بھی شامل تھی۔4 ہزار 218 کلومیٹر کے طویل سفر کے دوران رکشہ ان کے لیے بھارت کی سیاحت کی ایک خاص یاد بن گیا۔ سفر مکمل ہونے کے بعد جب وطن واپسی کا وقت آیا تو جوڑا اپنے اس منفرد ساتھی کو بھارت میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

چھ ماہ کے انتظار کے بعد رکشہ لندن پہنچ گیا

بھارت میں سیاحتی سفر ختم ہونے کے بعد ہیلن اور مک نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پسندیدہ رکشے کو بھی اپنے ساتھ برطانیہ لے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اسے بحری جہاز کے ذریعے برطانیہ منتقل کرنے کا انتظام کیا۔رکشے کی برطانیہ منتقلی کے لیے تقریباً چھ ماہ انتظار کرنا پڑا، جس کے بعد 23 اکتوبر کو ان کا پیارا رکشہ لندن کی بندرگاہ پہنچ گیا۔