پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ مالی بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق شواہد جمع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ متعلقہ ریکارڈ مرتب ہونے کے بعد الزامات کی تفصیلات اور چارج شیٹ سامنے لائی جائے گی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف مختلف مالی معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں، تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق وہ اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ مالی بدعنوانی سے متعلق شواہد جمع اور مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دستیاب مواد کی بنیاد پر باضابطہ چارج شیٹ تیار کی جائے گی، جس میں الزامات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تمام متعلقہ سرکاری محکموں سے ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے۔ ابتدائی انکوائری اور شواہد کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے معاملات قومی احتساب بیورو (نیب) اور محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائے جائیں گے، تاکہ متعلقہ قوانین کے تحت مزید کارروائی کی جاسکے۔
حکومتی حکام کے مطابق صحت کارڈ پروگرام کے معاملات بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہیں۔ پروگرام میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے۔دوسری جانب مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے واضح کیا ہے کہ صحت کارڈ پروگرام کو بند یا ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ اس کے اندرونی معاملات اور انتظامی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ بہتری کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔