شام میں 23وزراء کی تقرری کے ساتھ عبوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا

عبوری حکومت میں وزیرِ اعظم کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی ، صدر الشرع ہی مجوزہ انتظامیہ کی قیادت کریں گے
دمشق (آئی این پی) شام کے صدر احمد الشرع نے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 23 وزیروں کی تقرری کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ کابینہ اس بات کا سنگ میل سمجھی جا رہی ہے کہ یہ اسد خاندان کی دہائیوں پر محیط حکمرانی کے خاتمے اور شام کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی طرف اہم قدم ہے۔نئی حکومت جو کہ سنی اسلام پسندوں کی قیادت میں ہے مغرب اور عرب ممالک کی جانب سے ملک کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کی شمولیت پر زور دینے کے دبائو میں رہی ہے۔یہ دبائو اس وقت مزید بڑھ گیا جب اس ماہ شام کے مغربی ساحل پر علوی مسلمانوں کے سینکڑوں افراد کے قتل کے بعد عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔نئی کابینہ میں یاروب بدر کو وزیرِ ٹرانسپورٹ جبکہ امجد بدر کو وزیرِ زراعت مقرر کیا گیا۔ امجد بدر دروز برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ یاروب بدر علوی برادری سے ہیں۔ہند کبوات جو کہ ایک مسیحی خاتون ہیں اور اسد حکومت کے خلاف اپوزیشن کا حصہ رہی ہیں کو وزیرِ سماجی امور و محنت مقرر کیا گیا۔صدر الشرعہ نے پہلی بار ایک وزارت برائے کھیل اور ایک وزارت برائے ایمرجنسی قائم کرنے کا اعلان کیا، اور ایمرجنسی وزارت کے وزیر کے طور پر وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی گروپ کے سربراہ رائد صالح کو مقرر کیا گیا۔