سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
کل تک وہ ہمارے درمیان تھے۔ان کانام لیاجاتاتوکسی چہرے پرشناسائی کی روشنی پھیل جاتی،کسی گھرمیں ایک مانوس آوازسنائی دیتی، کسی رشتے کواپنے ہونے کااطمینان ملتا۔ پھر ایک خبرآئی،اوروہی دنیا،جس کے راستے،موسم اورمعمولات ہمیں معلوم تھے،یکایک اجنبی ہو گئی۔بھائی جان رخصت ہوگئے۔رشتے کے اعتبارسے وہ میرے بہنوئی تھے،مگرمحبت نے انہیں بھائی کامقام دے رکھاتھا۔بعض تعلقات کو شجر نسب میں ایک نام دیاجاتاہے،لیکن دل اپنی لغت میں ان کیلئے کہیں زیادہ گہرالفظ محفوظ رکھتاہے۔
میں سفرِواپسی میں تھا۔جہازکی کھڑکی سے باہربادل تھے،اندرمسافروں کی خاموش مصروفیت۔اسی اثنامیں پائلٹ کی آوازآئی؛اس نے پروازکی بلندی کاذکرکیا:ساٹھ ہزارفٹ۔ میرے لیے اس لمحے اس عددکی پیمائش اہم نہ رہی۔ذہن میں ایک ہی خیال ابھراکہ انسان زمین سے کتنابھی بلندہوجائے،زمین پرچھوٹ جانے والے ایک عزیزکی یاداس کے ساتھ سفرکرتی ہے۔میں آسمان کی طرف جارہاتھااورمیرادل ایک قبرکی طرف لوٹ رہاتھا۔
میں نے قریباً۸۰ کتابیں لکھی ہیں۔زندگی کے کم ہی ایسے موضوعات ہوں گے جن پرقلم نہ اٹھایاہو۔میرے کالم اورمضامین روزلاکھوں لوگوں تک پہنچتے ہیں۔مگرغم کے بعض لمحے انسان کواپنی تمام عبارتوں کیسامنے خاموش کھڑاکردیتے ہیں۔قلم سے دوسروں کیلئے تسلی لکھی جاسکتی ہے؛اپنے سینے میں اٹھنے والی ٹیس کیلئے لفظ ڈھونڈنادشوارہوتاہے۔علم موت کو سمجھنے میں مدددیتاہے،لیکن محبت اس کے واقع ہوجانے پربہرحال روتی ہے۔
اسی خاموشی میں قرآن کایہ اعلان دل میں گونجا:
ہرجان کوموت کاذائقہ چکھناہے،پھرتم ہماری ہی طرف لوٹائے جاگے(العنکبوت:29:57)
یہ آیت انسان کے سامنے دوحقیقتیں رکھتی ہے:موت آئے گی،اوراس کے بعدواپسی ہے۔پہلی حقیقت دل کوہلادیتی ہے؛دوسری اسے بے سمت نہیں ہونے دیتی۔ہم اپنے عزیز کی جدائی پراس لیے نہیں روتے کہ ہمیں موت کاعلم نہ تھا۔ہم اس لیے روتے ہیں کہ علم،قربت کابدل نہیں بن سکتا۔
گھرمیں کسی کے انتقال کے بعدسب سے زیادہ دل دہلادینے والی چیزاکثرکوئی بڑی علامت نہیں ہوتی۔ایک خالی کرسی ہوتی ہے۔میزپر رکھاہواکوئی معمولی ساسامان ہوتاہے۔ فون میں محفوظ ایک نام ہوتاہے جسے انگلی چھوسکتی ہے،مگردوسری طرف سے جواب نہیں آتا۔ انسان حیران رہ جاتاہے کہ ایک شخص کی موجودگی کتنی جگہ گھیرتی تھی،اوراس کی غیر موجودگی اس سے بھی زیادہ جگہ کیسے گھیرنے لگی۔جولوگ باہرسے تعزیت کیلئے آتے ہیں،وہ ایک واقعے کی خبرسن کرآتے ہیں۔اہلِ خانہ اس واقعے کوہرصبح نئے سرے سے دریافت کرتے ہیں۔دروازہ کھلتاہے تونگاہ بے اختیار اس جانب اٹھتی ہے جہاں وہ آیاکرتے تھے۔دسترخوان بچھتاہے توایک جگہ اپناسوال لے کرسامنے آتی ہے۔خوشی کاکوئی چھوٹاسالمحہ پیداہوتاہے توفورًاخیال آتاہے:یہ خبرانہیں سناتے توکتنے خوش ہوتے۔
فراق کی اصل سختی اسی تسلسل میں ہے۔وفات ایک دن واقع ہوتی ہے؛جدائی روزمرہ زندگی کے اندردیرتک اترتی رہتی ہے۔سوگ کا احترام اسی بات میں ہے کہ ہم غم زدہ شخص سے جلدمعمول پرآنے کامطالبہ نہ کریں۔اسے اپنے عزیزکانام لینے دیں،یادسنانے دیں،کبھی رونے دیں اورکبھی خاموش رہنے دیں۔محبت کواپنے نقصان کااعتراف کرنے کیلئے وقت چاہیے۔
جوشخص دل کے گھر میں مدت سے رہ رہاتھا
اس کے چلے جانے پہ گھردیرتک اداس رہا
رسول اللہ ﷺکے اپنے صاحبزادے ابراہیم کی وفات پرآنسوبہے۔آپﷺنے بتایاکہ آنکھ اشک بارہوتی ہے اوردل غمگین،مگرزبان سے وہی بات نکلتی ہے جورب کوپسندہو۔ اس اسو ہ مبارک میں اہلِ غم کیلئے بڑی وسعت ہے:صبرکامطلب پتھرہوجانانہیں۔آنسومحبت کی زبان ہیں؛ صبریہ ہے کہ غم کے باوجودبندہ اپنے رب سے بدگمان نہ ہو۔
ہوائی جہاز کی کھڑکی سے زمین دیکھوں توشہراپنی وسعت کھودیتے ہیں۔جن شاہراہوں پرانسان اپنی اہمیت کے احساس کے ساتھ چلتاہے، وہ باریک لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ عمارتیں جن کے نام پرتاریخیں لکھی جاتی ہیں،چھوٹے نشانات بن جاتی ہیں۔بلندی نگاہ کازاویہ بدل دیتی ہے،مگرانسان کی حقیقت بھی یاددلاتی ہے:ہماری مصروف زندگیاں بہت بڑی معلوم ہوتی ہیں،جبکہ عمرایک محدودمہلت ہے۔
زمین پرہم منصوبے بناتے ہیں،گھرتعمیرکرتے ہیں،اولادکیلئے خواب دیکھتے ہیں،ملکوں کے مستقبل پربحث کرتے ہیں۔یہ سب زندگی کے جائزاورضروری کام ہیں۔خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں مسافراپنے سفرکوقیامِ ابدی سمجھنے لگے۔وہ سامان اتناجمع کرے کہ منزل کاخیال ہی بھول جائے،اورمصروفیت اس قدربڑھالے کہ کسی عزیزکے ساتھ بیٹھنے کی مہلت بھی اسے فضول معلوم ہو۔
موت جب گھرکے قریب آتی ہے توہماری ترجیحات کی فہرست خاموشی سے بدل دیتی ہے۔جن بحثوں میں فتح ضروری لگتی تھی،وہ بے وقعت محسوس ہوتی ہیں۔جن معافیوں کوہم کل پرٹالتے رہے،ان کی تاخیردل میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔آدمی پوچھتاہے:کیامیں نے ان سے کافی گفتگو کی؟ان کی خیریت دل سے پوچھی؟محبت کااظہارکیا،یایہ سمجھتا رہا کہ انہیں معلوم ہی ہوگا؟
شایدموت کی یادکاسب سے بامعنی اثریہی ہے کہ وہ زندہ لوگوں کے ساتھ ہمارے برتاؤکوبہترکردے۔جوآج سامنے بیٹھاہے،اس کیلئے آج وقت نکالیے۔جس سے ناراضگی ہے ، وہاں صلح کی کوئی راہ تلاش کیجیے۔جس کاحق دیناہے،اسے اداکیجیے۔جنازے سے لوٹ کراگرہماری زندگی میں کوئی نرمی نہ آئے توہم نے ایک بہت گہری نصیحت سن کربھی اسے اپنی عادتوں تک نہیں پہنچنے دیا۔
قرآن اہلِ مصیبت کی زبان پر یہ کلمات رکھتا ہے:بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(البقرہ:(2:156
یہ جملہ اکثرہم خبرسنتے ہی پڑھ لیتے ہیں۔مگرکبھی اس کے دونوں حصوں کے درمیان ٹھہرکردیکھئے۔ہم اللہ ہی کے ہیں،ہماری جان، ہماری قوت،ہماری عمراوروہ عزیزبھی جنہیں ہم اپناکہتے ہیں،سب اسی کے عطاکردہ ہیں۔اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔رخصتی ایک ایسی کائنات میں واقع ہورہی ہے جس کاپروردگارہمیں جانتاہے،ہمارے غم کوجانتاہے، اورہمارے عزیزسے بھی بے خبرنہیں۔اس عقیدے کوغم زدہ دل پرحکم کی طرح نہیں رکھناچاہیے۔اس کے پاس بیٹھ کر،اس کاہاتھ تھام کر،آہستہ آہستہ سمجھنا چاہیے۔’’انااللہ وان االیہ راجعون‘‘پڑھنے والاشخص یہ بھی کہہ سکتاہے کہ میرادل ٹوٹ رہاہے۔اللہ کے حضوربندگی اوردل میں شدیدفراق ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ دعاکبھی آنسوں سے بھی اداہوتی ہے۔
ہم اپنے عزیزوں سے گہری محبت کرتے ہیں،مگرانہیں وقت کی گرفت سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ماں اپنے بچے کوسینے سے لگاتی ہے، پھربھی اسے ہردکھ سے نہیں بچاسکتی۔بھائی بھائی کی فکرکرتاہے،مگراس کی عمرمیں اپنی طرف سے ایک دن نہیں بڑھاسکتا۔اس بے بسی کااحساس انسان کوعاجزبناتاہے۔وہ سمجھتاہے کہ حفاظت کی آخری امیداس ذات سے ہے جس کے سپردہم اپنے پیاروں کوزندہ بھی کرتے ہیں اوررخصت ہونے پربھی۔جب میں اپنے بہنوئی کیلئے ’’انااللہ ‘‘پڑھتاہوں تویہ الفاظ میرے دکھ کوچھوٹانہیں کرتے۔یہ میرے دکھ کوایک پناہ دیتے ہیں۔میں اپنے رب سے کہتاہوں:وہ ہمارے درمیان رہے،ہم نے ان سے محبت کی،اب انہیں تیری رحمت کے سپردکرتے ہیں۔ہماری نگاہ وہاں تک نہیں پہنچتی جہاں وہ گئے ہیں؛تیری رحمت وہاں بھی پہنچتی ہے۔
انسانی تاریخ نے موت کے سامنے ہمیشہ سوال اٹھائے ہیں۔فاتحین نے سلطنتوں کی سرحدیں بڑھائیں،مگراپنی عمرکی سرحدآگے نہ لے جا سکے۔اہلِ دانش نے زمانے کی گرہیں کھولیں،مگراپنے عزیزکی جدائی میں ان کی آنکھیں بھی نم ہوئیں۔شاعرنے بقاکی آرزوکولفظ دیے؛ معمارنے پتھرپراپنانام کندہ کیا۔ہرعہدنے اپنے طریقے سے فناکے مقابل کھڑے ہونے کی کوشش کی۔
اسلام انسان کی اس بے قراری کوحقیرنہیں سمجھتا۔وہ اس سے سنجیدہ سوال کرتاہے:اگردنیاہی ہرعمل کی آخری منزل ہوتوانصاف کی تکمیل کہاں ہوگی؟ان محبتوں کاکیاہوگاجوموت کے سبب ادھوری رہ گئیں؟ان مظلوموں کاحساب کہاں ہوگاجن کی فریادزمین پرنہ سنی گئی؟آخرت پرایمان انہی سوالوں کے سامنے جوابدہ زندگی کاتصوررکھتاہے۔یہ ہمیں بتاتاہے کہ دنیامیں کیاہوا،اس کی اخلاقی اہمیت موت کے ساتھ مٹ نہیں جاتی۔قرآن کہتاہے کہ ہرجان موت کاذائقہ چکھے گی اوراعمال کاپورابدلہ قیامت کے دن دیاجائے گا۔پھروہ کامیابی کاپیمانہ بھی واضح کرتاہے: جسے آگ سے بچاکرجنت میں داخل کردیاگیا،وہ کامیاب ہوا۔(آلِ عمران3:185)
اس پیمانے کے سامنے شہرت کی چمک مدھم پڑجاتی ہے۔میرے لکھے ہوئے صفحات،پڑھے جانے والے کالم اورقارئین کی تعدادمیرے لیے ذمہ داری کاباعث ہیں؛یہ میرے لیے نجات کاپروانہ نہیں۔کتابوں کی تعدادسے بڑھ کرسوال یہ ہے کہ ان میں حق کے ساتھ کتناانصاف کیا۔ الفاظ نے کسی دل کوامیددی یانفرت میں اضافہ کیا؟قلم نے کمزورکے حق میں آوازاٹھائی یاطاقتورکی پسندکالحاظ کیا؟جوشخص عمربھر زندگی پرلکھتارہاہو،موت اسے اپنی تحریرکاسب سے کڑاقاری بنادیتی ہے۔
(جاری ہے)