آخری سفر،پہلی واپسی

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
کتابِ عمرکے اوراق جب پلٹتے ہیں
 تولفظ کم،اپنے اعمال زیادہ دکھتے ہیں
یہ خیال دل میں خوف بھی پیداکرتاہے اوراصلاح کی گنجائش بھی۔ابھی ہم زندہ ہیں۔ابھی قلم اٹھایاجاسکتاہے،حق اداکیاجاسکتاہے،معافی مانگی جاسکتی ہے،دعاکی جاسکتی ہے۔کسی عزیزکی وفات ہمیں یہ مہلت دکھاتی ہے۔کل کااختیارہمارے پاس نہیں؛آج کاایک حصہ اب بھی ہے۔فراق محسوس کیاجاتاہے؛وصال کی امیدایمان سے قوت پاتی ہے۔ان دونوں کے درمیان فرق سمجھناضروری ہے۔جس شخص کوہم نے سپردخاک کیا،اس کے بارے میں اپنی خواہش کویقینی فیصلے کی صورت میں بیان کرناہمارے اختیارمیں نہیں۔ہم اس کیلئے رحمت،مغفرت اورجنت کی دعاکرتے ہیں۔اللہ سے اچھا گمان رکھتے ہیں۔آخرت کے وعدوں سے امیدلیتے ہیں،مگرکسی فردکے انجام کاعلم اللہ ہی کے سپرد کرتے ہیں۔
اس احتیاط میں امیدکی کمی نہیں،ادب ہے۔قرآن اہلِ ایمان کیلئے جنت میں اپنے اہل سے ملنے کی بشارت بھی بیان کرتاہے(الطور52:21)
یہ بشارت جدائی جھیلنے والے دل کوایک افق دیتی ہے۔دنیاکی ملاقاتیں گھڑیوں میں ناپی جاتی ہیں؛آخرت کی کامیابی اس وقت کی محتاج نہیں جس کے ختم ہونے سے ہم یہاں ڈرتے رہتے ہیں۔
وصال کی امیدفراق کی تکلیف کوفوراختم نہیں کرتی۔جب تک ہم یہاں ہیں،ہمیں خالی کرسی بھی دکھائی دے گی،پرانی تصویربھی رلائے گی۔مگرامیداس دکھ کے اندررہنے کی قوت دیتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ محبت کودعاکاراستہ دو۔مرحوم کاذکرخیرسے کرو۔ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے رہو۔ان کی کوئی اچھی بات اپنی زندگی میں جگہ دو۔اگران پرکسی کاحق باقی ہوتواسے معلوم کرکے اداکرنے میں مدددو۔یادکو محض ایک زخم بنارہنے دینے کی بجائے خیرکاسبب بھی بناؤ۔
مجھے اپنے بہنوئی کی یادآئے گی تومیں شایدبہت سی باتیں دہراناچاہوں گا:ان کالہجہ،کوئی پرانی ملاقات،کوئی ایسی بات جس کی اہمیت اس وقت پوری طرح محسوس نہ ہوئی تھی۔غم کی یہی فطرت ہے۔وہ معمولی لمحوں کوغیرمعمولی بناکرواپس لاتاہے۔ان یادوں سے فرار کی ضرورت نہیں۔انہیں احترام سے تھامنے کی ضرورت ہے،پھران کے ساتھ اللہ کے حضور دعا لیجانے کی۔
ایک موت خاندان کے ہرفردتک الگ راستے سے پہنچتی ہے۔میری بہن جوخودگزشتہ تین ہفتوں سے دنیامافہیاسے بے خبربسترپراللہ کی رحمت کی طلبگارہیں،یقیناان کیلئے یہ شوہرکی جدائی ہے؛ان کے بچوں اوردوسرے عزیزوں کیلئے رشتے کی صورت مختلف ہوگی۔میری اپنی اداسی میں بھائی جیسی قربت کارنگ ہے۔ہم ایک دوسرے کاغم پوری طرح اپنے ا ندر منتقل نہیں کرسکتے،لیکن ایک دوسرے کیلئے جگہ بناسکتے ہیں۔
غم کے ابتدائی دنوں میں اہلِ خانہ کے گردلوگ جمع ہوتے ہیں۔پھرزندگی اپنی رفتارپرچلنے لگتی ہے اورتعزیت کرنے والوں کی آمدکم ہو جاتی ہے۔اسی کے بعدبھی ساتھ کی ضرورت باقی رہتی ہے۔کبھی ضروری کام سنبھال دینا،کبھی فون کرکے حال پوچھ لینا،کبھی مرحوم کا نام محبت سے لے لینا،کبھی بغیرکسی نصیحت کے بیٹھ رہنایہ سب صبرمیں حصہ داری کی صورتیں ہیں۔گھروالوں کواپنی طاقت ثابت کرنے پرمجبورنہ کیجیے۔ان کے ساتھ اتنی دیررہیے کہ وہ اپنی کمزوری بھی بے خو ف ظاہرکرسکیں۔قرآن نے صبرکرنیوالوں کو بشارت دی ہے،لیکن اس بشارت سے پہلے آزمائش کاذکربھی کیاہے:خوف،نقصان اورجانوں کی کمی۔البقرہ:155:157-2)
گویاوحی انسانی تکلیف کے واقع ہونے سے آنکھ نہیں چراتی۔صبرتک پہنچنے کاراستہ اس دکھ کے بیچ سے گزرتاہے۔کسی کیلئے یہ راستہ خاموش دعاہے،کسی کیلئے بچوں کی ذمہ داری اٹھانا ،کسی کیلئے روزایک دن گزارلینا۔ایسے وقت میں یہ بھی یادرہناچاہیے کہ مضبوط دکھائی دینے والاشخص بھی سہاراچاہتاہے۔جس نے زندگی بھردوسروں کومشورہ دیاہو،وہ بھی اپنے عزیزکی وفات پرکسی مہربان آوازکا محتاج ہوسکتاہے۔میں نے بہت لکھا،بہت کہا؛آج شایدمجھے زیادہ سننے،زیادہ یادکرنے اوراپنے رب کے سامنے کم الفاظ میں زیادہ دل رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس ساعتِ غم میں جن عزیزوں،دوستوں اورخیرخواہوں نے تعزیت،دعااوراپنی محبت سے مجھے اورمیرے اہلِ خانہ کوسہارادیا،میں ان سب کاتہِ دل سے شکرگزارہوں۔بالخصوص پاکستان سے میرے روحانی بیٹے حافظ طاہرنے بروقت،لمحہ بہ لمحہ،جس خلوص سے میری دلجوئی کی،وہ میرے لیے ہمیشہ یادگاررہے گا۔ان کے الفاظ میں قرآن کی یادبھی تھی،صبرکی تلقین بھی،اورایک محبت کرنے والے بیٹے کی وہ اپنائیت بھی جس نے اس فراق کی گھڑی میں مجھے حوصلہ اورڈھارس دی۔بعض اوقات غم کابوجھ کسی دلیل سے ہلکانہیں ہوتا؛اللہ تعالی کسی مخلص انسان کی زبان سے ایساتسلی بخش کلمہ عطافرمادیتاہے جودل تک پہنچ جاتاہے۔حافظ طاہرکے الفاظ میرے لیے اسی عنایت کاوسیلہ بنے اورمیں نے انہیں ہرگھڑی اپنے ساتھ ہی کھڑادیکھا۔اللہ تعالی انہیں اوران تمام احباب کوجزائے خیرعطا فرمائے جنہوں نے ہماری جدائی کے دکھ میں ہمیں اپنی دعاؤں اورمحبت میں یادرکھا۔اللھم آمین
پروازجاری تھی۔بادلوں کے اوپرروشنی پھیلی ہوئی تھی،اورنیچے زمین کہیں دورتھی۔مجھے خیال آیاکہ ہوائی سفرمیں ہم اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے پائلٹ،جہازاوراس کے نظام پراعتماد کرتے ہیں۔زندگی کے سفرمیں بھی ہم بہت سی چیزیں جانتے ہوئے بہت کچھ نہیں جانتے۔ اگلاموڑہماری نگاہ سے اوجھل رہتاہے۔عزیزکی موت اس نادیدہ حدکواچانک سامنے لے آتی ہے۔
میں کھڑکی سے باہردیکھتارہا۔فراق کادرداپنی جگہ تھامگراسی دردمیں ایک دعانے جنم لیا:یااللہ،جسے ہم واپس نہیں لاسکتے،اسے اپنی رحمت سے محروم نہ رکھ۔ہمیں اس کیلئے خیرکاسبب بنا۔ہمارے دلوں میں اس کی یادکے ساتھ شکربھی باقی رکھاس مدت کاشکرجو ہمیں اس کے ساتھ ملی،ان ملاقاتوں کاشکرجن میں ہم ہنسے،ان باتوں کاشکرجواب ہمارے پاس امانت ہیں۔
انسان اکثروصال کوصرف دوبارہ ملنے کانام سمجھتاہے۔یہاں،زندگی کے اندر،وصال کی ایک اورصورت بھی ممکن ہے:اپنے عزیزکی یاد سے پیداہونے والی خیرکے ذریعے اس کی محبت سے جڑے رہنا۔یہ آخرت کی ملاقات کابدل نہیں؛یہ فراق کے زمانے میں دل کوعطاہونے والاایک کام ہے۔دعامیں اس کانام لینا،اس کے پیاروں کاخیال رکھنا،اپنی زندگی کی اصلاح کرنا،یہ سب محبت کوزندہ عمل میں ڈھالتے ہیں۔
قرآن کاارشادہے:آگاہ رہو،اللہ کے ذکرہی سے دل اطمینان پاتے ہیں(الرعد:13:28)
اطمینان کامطلب یہ نہیں کہ یادآنابندہوجائے۔ممکن ہے دل مطمئن بھی ہواورآنکھ نم بھی۔بندہ اللہ کے فیصلے کے سامنے سرجھکائے،پھربھی اپنے عز یزکیلئے روئے۔مجھے اسی جمعِ کیفیت میں تسلی ملتی ہے:ایمان مجھے محبت ترک کرنے کونہیں کہتا؛وہ مجھے سکھاتاہے کہ محبت،جدائی کے بعددعابن کرکیسے جاری رہتی ہے۔
جہازبالآخرزمین پراترآئے گا۔مسافراپناسامان اٹھائیں گے،اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیں گے۔میں بھی اپنے گھرکی طرف لوٹوں گا، مگرجانتاہوں کہ اس سفرسے پہلے والا شخص بن کرنہیں لوٹ سکتا۔ایک عزیزکی موت نے مجھے دوبارہ یاددلایاہے کہ عمرکے صفحات گنے ہوئے ہیں،اوران پرلکھی جانے والی عبارت صرف قلم سے نہیں بنتی۔ہمارے فیصلے ، ہمارے تعلقات،ہماری امانت داری،ہماری عبادت، ہماری مہربانی یہ سب اس عبارت کے الفاظ ہیں۔
اپنے بہنوئی کیلئے میری دعاہے:اے اللہ،ان کی لغزشوں سے درگزرفرما،ان کی نیکیوں کوقبول فرما،ان کی قبرکوکشادگی اورنورعطافرما۔ ان کی اہلیہ،بچوں اورتمام اہلِ خانہ کوایساصبر دے جس میں تیراقرب ہو۔ہمیں توفیق دے کہ ان کے حقوق اوران کی محبت کاپاس رکھیں۔اور جب ہماری اپنی واپسی کاوقت آئے توہم سے رحمت کامعاملہ فرمانا۔
میں زمین وآسمان کے درمیان بیٹھایہ سطوردل میں ترتیب دے رہاہوں۔نیچے انسانی بستیاں ہیں؛اوپربے کناروسعت۔میرے اندرایک بھائی کی جدائی ہے،اوراس جدائی کے ساتھ اپنے رب سے امید۔میں جانتاہوں کہ اگلی ملاقات کاوقت،مقام اورانجام میرے علم میں نہیں۔اسی لیے میں دعویٰ نہیں کرتا؛دعاکرتاہوں۔
شایدفراق ووصال کی کیفیت سمجھنے کیلئے آج میرے پاس یہی سب سے سچی بات ہے:
 ہم اپنے عزیزکے جانے پرروتے ہیں،اس کیلئے رحمت مانگتے ہیں،اوراپنی باقی زندگی اس احساس کے ساتھ گزارتے ہیں کہ ایک دن ہمیں بھی لوٹناہے۔زمین پرہماراساتھ مختصرتھا ، مگر اس کی محبت نے جوخیرسکھائی،اسے باقی رکھنااب ہمارے ہاتھ میں ہے۔
بچھڑکے بھی وہ دعاؤں میں ہم سفررہے گا
چراغِ یادہمارے دلوں میں گھررہے گا