روبینہ شاہین
سورج ڈھل رہا تھا میں کپڑے اتارنے چھت پر گئی چھت پر 14 اگست کے لیے پاکستانی جھنڈیاں ہوا کے ساتھ ہلکورے لے رہی تھی پاکستانی جھنڈے بھی قومی ترانہ گار رہے تھے اور جھنڈیاں رقص کرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی جیسے ازادی کی خوشی ان کو بھی مست کیے جا رہی ہو اسمان پر ہلکے ہلکے بادل ادھر ادھر اڑان بھر رہے تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بارش کی امد محسوس ہو رہی تھی اگست کی شام بھی ایک خوبصورت ماحول بنا رہی تھی بہت خوبصورت اور دلکش منظر دیکھ کر اپنے خیالوں میں محسوس کر کے کپڑے ٹوکری میں اکٹھے کیے اور سارے گھروں کا جائزہ لینے لگی ہر گھر پر گھر والوں اور بچوں کی خوشی کے مطابق جھنڈیاں لگائی گئی تھی اور جھنڈے لہرا رہے تھے اچانک مجھے ہلکی ہلکی ہنسی کی اواز ائی میں ادھر ادھر دیکھنے لگی مگر کوئی بھی. نظر نہ ایا مجھے لگا یہ میرا وہم ہے پھر میں 14 اگست کے اس خوبصورت منظر میں مگن ہو گئی تھوڑی دیر بعد پھر ہلکی ہنسی کی اواز ائی. اب کے میں گھبرا گئی اور چاروں طرف دیکھنے لگی مگر پھر وہی کوئی بھی نظر نہ ایا میں ڈر گئی کہیں کوئی جن پری یا چڑیل نہ ہو میرے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے جیسے ایک خوف محسوس کرنے لگی مگر پھر وہی اواز جیسی کوئی اہستہ سے مجھ سے باتیں کر رہا ہو ‘گھبرا کیوں گئی ہو یہ میں ہوں ‘آواز گھر کے بیرونی طرف بنی ہوئی دیوار سے آرہی تھی جیسے دیوار باتیں کرنا چاہ رہی ہو میں اہستہ اہستہ اس دیوار کی طرف گئی اور محسوس کرنے لگی کہ آواز کہاں سے آرہی ہے پھر ہلکی سی ہنسی کی اواز یہ میں ہوں ایک پرانی ا ینٹ ہوں اور 1942 سے اس دیوار میں نصب ہوں غور سے دیکھو ‘ایسے لگا آواز دیوار سے ا رہی ہو چونکہ یہ گھر پاکستان بننے سے پہلے کا تھا اور بہت پرانا تھا ہم نے اسے کچھ حد تک اندرونی طور پہ نیا بنایا تو تھا مگر بیرونی منظر اج بھی وہی تھا اس کو تبدیل نہیں کیا اس لیے اس میں لگی اینٹیں وہی پرانی تھی میں نے خوفزدہ سے قدم دیوار کی طرف بڑھائے اور اینٹوں کو ہاتھ لگا کر دیکھنے لگی جیسے ابھی یہ دیکھنے اور حرکت کرنے لگیں گی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ‘گھبراؤ نہیں میں اینٹ ہی ہوں پرانی جو پاکستان بننے سے پہلے یہاں لگائی گئی تھی میں نے 75 سال دیکھے وقت دیکھے بدلتے موسم بدلتے حالات اور زندگیاں بدلتی دیکھی نسلیں بدلتی دیکھی زندگی کی رفتار دیکھی اور خاموش اپنی جگہ پر لگی رہی پاکستان بنتے دیکھا اور پاکستان بننے کے بعد ہر دور بدلتے دیکھا تمہیں دیکھا تو سوچا کہ کچھ باتیں کرو شاید تم سنو گی مجھے مگر تم بھی ڈر رہی ہو ڈرو نہیں میرے قریب اؤ تمہارے ساتھ کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں میرے دل کا خوف اہستہ اہستہ کم ہونے لگا جیسے کوئی جن چڑیل یا پری نہیں کوئی اواز ہے تو مجھ سے مخاطب ہے میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی اور غور سے سننے لگی. ہمارا یہ یہ گھر پاکستان بننے سے پہلے ایک سکھ فیملی نے 1942 میں تعمیر کرایا تھا گھر کے باہر ایک تختی کنندہ تھی جس میں سن تاریخ اور سربراہ کا نام . سر نام سنگھ . کنندہ تھا پاکستان بننے کے بعدایک مسلم فیملی اس میں شفٹ ہوئی پھر یہ گھر بیچا گیا اور ایک اور فیملی 25 سال رہائش پذیر ہوئی اس کے بعد ہم نے خریدا مگر اندرونی طور پر کافی تبدیل ہو چکا تھا گھر کا فرنٹ وہی تھا کوئی تبدیلی نہ تھی‘میں ایک اینٹ ہوں جو بھٹی سے نکلی تو دکاندار کے ہاتھوں سے اس گھر کے مالک نے مجھے خرید لیا اور میری جگہ پر نصب کر دیا تب سے اب تک میں نے 75 سال کا سفر دیکھا ہے دن رات گزرے خزاں بہار گزری دنیادار بھی گزرے ہندوستان سے پاکستان بنا جب سکھ رہتے تھے یہاں تب ایک ہندوستانی تھا پھر قافلے گزرنے لگے نعرے لگاتے
پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کبھی جلوس اور جلسے گزرتے پھر ہندو مسلم سکھ عیسائی ایک دوسرے کے دشمن بنتے گئے پھر فسادات پھیلتے گئے ہیں‘لے کے رہیں گے پاکستان کا نعرہ شدت سے اختیار کرتا گیا قتل و غارت گری دیکھی مگر مسلمانوں کا جذبہ شہادت قابل قدر. رہا کبھی بھی ایک قدم ایک اواز پیچھے نہیں ہٹے جذبہ شہادت تب بھی اتنا ہی تھا جتنا اب ہے پاکستان کے نام پر سر کٹانے کے لیے بچہ بچہ تب بھی تیار تھا اج بھی قربانی کا جذبہ بے مثال ہے سنو میں نے اس گلی میں بہت کچھ دیکھا ہے ازادی صرف انگریزوں سے ہی حاصل نہیں کرنی تھی بلکہ ہندو اور سکھ بھی اس میں شامل تھے اور یہ جو گلی ہے یہ ہندو اور سکھوں کا مرکز رہ چکی ہے سڑک پر لاٹھی چارج ہوتا تو جان بچانے کے لیے شاہ عالمی سے گوالمنڈی کی طرف ان گلیوں کے راستے لوگ بھاگتے رہے‘استے لوگ بھاگتے رہے
اینٹ سے ایسی کہانی. کی توقع نہیں تھی مجھے وہ بڑے انہماک سے پاکستان بننے کا قصہ بیان کیے جا رہی تھی جیسے کئی سالوں سے انتظار میں تھی کہ کوئی تواس کی اواز سنیاسے پہچانے اور وہ اپنے سب دیکھے سنے واقعات کسی کو بیان کریں شاید یہ سب قدرت کا وہ کرشمہ تھا کہ مجھے 14 اگست پہ سننے کے لیے منتخب کیا گیا اور اینٹ کی اواز کی سا مع بنی.اچھا پھر کیا ہوا میں نے بھی دلچسپی لیتے ہوئے کہا پھر 14 اگست 1947 کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا اور پھر ہندوؤں اور سکھوں کو یہاں سے بھاگتے دیکھا سب یہاں سے اپنا ضروری سامان لے کر ہندوستان کی طرف چلے گئے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اس گھر کے سکھ اپنا ضروری سامان لے کر کوچ کر گیے کیونکہ یہ شہر اور علاقہ پاکستان کے حصے میں آیا تھا کچھ دن گزرے تو ایک مسلمان خاندان. جو کہ ہجرت کر کے امرتسر سے ایا تھا تالے تو. اور گھر میں رہنے لگے تب تو لوگوں کو یقین ہی نہیں تھا کہ وہ ہمیشہ یہاں رہیں گے اس لیے کچھ سال بڑے خوف سے گزر گئے پتہ نہیں کہ پاکستان پر حملہ ہو جائے اور پھر نہ جانے کہاں جانا پڑ جائے یہ گلی محلہ اور علاقہ مسلمانوں کا ہو گیا ہندو سکھ ختم ہو گئے محلے میں مسجد بنی اذان کی اواز پانچ وقت انا شروع ہوئی اہل محلہ کو نماز کی طرف بلانے لگی اور پھر یہاں کا سماہی بدل گیا ہر سال 14 اگست منائی جاتی عید میلاد نبی محرم الحرام کے دن عید الفطر عید الضحی قائد اعظم کا دن شب بارات سال کے 12 مہینوں کے 12 تہوار مسلمان جوش وکری سے منانے لگے‘گلی محلے اور گھر سجائے جاتے ہیں نسلیں بدلتی گئی گردش حالات بھی بدلنے لگے اسمان پر صرف پرندے پرواز کرتے تھے پھر جہاز بھی پرواز کرنے لگے ایسے لگنے لگا مسلمان ہر خوف سے ازاد روز عید منانے لگے گا گائز ذبح کرنے پر کوئی پابندی نہیں گوشت کھانے پر کوئی پابندی نہیں. اذان بروقت نماز وقت وقت پہلو بدلتا رہا اور میں دیکھتی رہی‘میں بڑے انہماک سے یہ کہانی سن رہی تھی جیسے پاکستان بننے کا عمل ہماری دادی نانی سنا رہی ہو اور یہ سچ بھی تھا کہ ہم نے اپنی دادی امی سے یہ قصے سن رکھے تھے کیونکہ وہ لوگ بھی ہجرت کر کے پاکستان ائے تھے لیکن وہ گجرانوالہ جیسے چھوٹے شہر میں اباد ہوئے تھے اور یہ لاہور کی گلیوں کی کہانی ہے جو لاہور کا گڑھ کہلایا جاتا ہے اور اس میں لگی اینٹ جس نے پاکستان کے جذبے کو خواب سے حقیقت بنتے دیکھا پھر کیا ہوا میں نے اپنی توجہ اسی کہانی پر مرکوز کرتے ہوئے کہا پھر میں اس مسلمان فیملی نے 25 سال یہاں گزارنے کے بعد یہ گھر بیچ دیا اور کسی نئی ابادی میں منتقل ہو گئے یہاں دوسرے لوگ اگئے ان لوگوں نے بھی یہاں 25 سال گزارے. پھر نسلیں بدل گئی اور وہ لوگ بھی یہاں سے کسی نئی کالونی میں چلے گئے اور اس گھر کی در و دیوار خاموشی سے اس بدلتے دور کو دیکھتے رہے کسی نے گھر کو سنوارا کسی نے لاپرواہی کی پھر وہ لوگ بھی گھر بیچ کر چلے گئے کسی نے اور بڑے گھر میں پھر اپ لوگ یہاں اگئے پھر اپ نے گھر کو ڈیزائن کیا اور گھر کافی حد تک بدل چکا ہے جو لوگ یہاں رہتے تھے وہ اب بھی گھر کو یاد کرتے ہیں محبت کرتے ہیں اپنے گزرے ہوئے وقت کے ساتھ مگر وقت نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کا جذبہ محبت پاکستان کے ساتھ اسی طرح ہے جس طرح اس گھر میں رہنے والے لوگوں کو تھا سب نے اس گھر سے محبت کی ہے اور سب لوگ بہت اچھے تھے اج ایسے لگا کہ جیسے اپ سے باتیں کر کے میں نے خود کو ہلکا کر لیا ہو شام کا گہرا اندھیرا چھانے لگا. اور میں نے مسکرا کر دیوار کی اینٹوں کو دیکھا اور نیچے اگئی جیسے زندگی میں کوئی انہونی ہو گئی ہو باتیں تو سب سچ تھیں کیونکہ ہمارے اس گھر کو دیکھنے سکھ فیملی بھی ائی تھی اور اس گھر سے جڑی خوبصورت یادیں زیر بحث کیں اور مسلمان خاندان بھی بار بار تشریف لائے اور اس گھر کے کمروں میں اپنی ماضی کو تلاش کرتے رہے اور اب ہمیں بھی اس گھر سے بہت پیار ہے مگر ہم نے اس دن ایک فیصلہ کیا کہ ہم اس گھر کو کبھی بھی نہیں بیچیں گے کیونکہ اس گھر سے ہمیں بھی پیار ان سب سے زیادہ ہے ان سب کمروں بر آمدوں چھت اور دیواروں پر لگی اینٹوں سے بھی ہمیں پیار ہے اس دن ہم نے ایک فیصلہ کیا کہ اس گھر کو ہم نے اپنے ابائی گھر میں شامل کر لیا تاکہ ائندہ. کوئی بھی اسے بیچ نہ سکے بالکل اپنے پیارے وطن پاکستان کی طرح جو ہمیں اپنے گھر کی طرح پیارا ہے سدا سلامت رہے
پاکستان زندہ باد.