مدر ڈے---زاویئے اور زندگی

روبینہ شاہیں
محبت کا دریا بہتا ہے شفقت کا سیلاب رواں رہتا ہے دعاؤں کا سائبان بنتا ہے عجب جذبے پیدا کیے ہیں خدا تعالی نے ماں کے سینے میں جو وقت کا محراب بن جاتی ہے مگر اپنی اولاد کے لیے اپنی جان بھی قربان کر دیتی ہے نرس. نے نو مولود سیرت لا کر میری گود میں ڈالی اور خود پاگلوں کی طرح بھاگ گئی میں حیران اور پریشان تھی کیا ہوا ہے سعدیہ ٹھیک ہے کچھ بولو کچھ بتاؤ مگر ڈاکٹر حیران پریشان کبھی ادھر  کبھی ادھر بھاگے جا رہے تھے سعدیہ  ٹھیک نہیں ہے اس کی یوٹرس برسٹ  ہو چکی ہے یا. اللہ خیر پانچواں بچہ پیدا کیا وہ بھی سارے  سی زیرین سے اب کیا ہوا میرے ہاتھ پاؤں بھول گیا انکھوں سے انسو رواں تھے ہو نٹوں پر فریاد دل میں درود شریف یا اللہ رحم ان پانچ بچوں کا کیا ہوگا یہ سوچ سوچ پاگل دماغ ہوا جا رہا تھا ہاسپٹل میں کھلبلی تھی خون کا بندوبست کرنے عثمان بھی بھاگے جا رہا تھا یہ خون مل جائے وائٹ سیلز الگ سے بندوبست کیا گیا بلڈ کا الگ سے بندوبست کیا گیا مگر کیا ہوگا اگر سعدیہ کو کچھ ہو گیا تو یہ پانچ بچے کون سنبھالے گا. دعاؤں اور فریاد کے لیے ہاتھ اٹھے تھے سر سجدوں میں جھکے جا رہے تھے یا اللہ رحم کسی نیکی کے طفیل کرم کر دے ان بچوں کی ماں واپس کر دے پتہ نہیں. کون سی فریاد سنی گئی اور تمام انتظامات مکمل ہو گئے خدا خدا کر کے دو گھنٹے بعد سی زیرین مکمل ہوا اور سعدیہ کی ہارٹ بیٹ نارمل ہوئی مگر سیٹل ہونے میں ایک ہفتہ درکار تھا پھر بھی ہزار شکر  خدا نے ہماری فریاد سنی اور سعدیہ  کی زندگی بچ گئی.

یہ ماں کے جذبات بھی کتنے پاگل ہوتے ہیں چوتھی بیٹی کی پیدائش تھی ایک بیٹا تھا دوسرا بیٹا پیدا کرنے کے لیے اتنا. بڑا خطرہ مول لے لیا کہ اپنی زندگی داؤ پر لگا دی اندھی محبت اندھا پیار پاگل بن ایسی اولاد کے لیے جو کہ دنیا میں ابھی پیدا بھی نہیں ہوتی اور ماں کی امیدیں اگلے سو برس کے ساتھ باندھی جاتی ہیں چھٹے مہینے سے ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ ماں کی جان کو خطرہ ہے بچے کو پیدا نہ کرے مگر  سعدیہ  کے دماغ میں ایک ہی بات سمائی تھی کہ میں بچے کا قتل نہیں کروں گی میرا بچہ دنیا میں آئے گا یہ راز  پیدائش کے عمل کے دوران اشکار ہوا کہ بچے کی اووری رحم سے جڑ چکی تھی مگر ماں کی دیوانگی کیسی ہوتی اپنی جان پر کھیل کر ایک جان کو پیدا کرتی ہے چاہے بعد میں یہ بچے ماں باپ کی وہ قدر نہیں کرتے کیونکہ انہیں کیا احساس ہوتا ہے کہ ماں یا باپ کن مراحل سے گزر کر یہ درجہ حاصل کرتے ہیں ان کے لیے ان دیکھا ایسا سلسلہ جس میں شاید کوئی بھی مشکل درپیش نہ.  آئی ہو بیٹیاں اپنے گھر بیٹے بیویوں کے پاس اور ماں باپ صرف ایک یاس بن کر ان کا انتظار کرتے ہیں بچے ماں کا سرمایہ ہوتے ہیں جن کے لیے ساری زندگی اپنے دنوں اور راتوں کو قربان کیا جاتا ہے اپنی خواہشات کو ختم کیا جاتا ہے اپنے بچوں کو 
دنیا کے عظیم انسان بنانے کے لیے کون سا جتن نہیں کیا جاتا میری شہزادی میرا شہزادہ بنایا جاتا ہے لیکن جب یہ شہزادی اور شہزادیاں. بادشاہ اور ملکہ کو ان کا اصل مقام نہیں دیتے اور انہیں اولڈ ہومز کا اثاثہ بنا دیتے ہیں تو یہی ماں باپ ذہنی مریض بن چکے ہوتے ہیں ایسی ہی نا امیدی میں گھری کچھ ماؤں کے ساتھ ہم نے بھی ایک دن گزارا کھانا کھایا چائے پی اور ان کے سر پر ماں کا تاج بھی رکھا مگر ان کی انکھوں کی خاموشی اور ہونٹوں کی سرد مہری بتا رہی تھی کہ ان کو اپنے بچوں کا انتظار ہے شاید ہم ان کی کمی پوری نہیں کر سکے مدر ڈے منا کر ہم کیا ثابت کرتے ہیں کہ ہم اپنی ماؤں سے بہت پیار کرتے ہیں صرف ایک دن ماں کا نہیں ہوتا اپ کا ہر دن اپنی ماں کے نام ہونا چاہیے ان کے دکھ سکھ سنیے ان کی ضروریات کا خیال رکھیے ان کی طبیعت کا حال احوال لیجیے ان کی دوائیوں کا خیال رکھیے اور ہر دن یہ احساس دلائیے کہ وہ اپ کے لیے کتنی قیمتی ہیں.  اپ کو. ان کی ضرورت ہے خشک قسمت ہوتی ہے وہ مائیں جن کے بچے والدین ان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ان کے دکھ سکھ کا خیال رکھتے ہیں یاد رکھیے وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے اج جہاں وہ کھڑے انتظار کر رہے ہیں خدارا کہیں اس جگہ اپ کھڑے انتظار نہ کر رہے ہوں بہت جلدی کیجئے اور مدر ڈے سال بعد نہیں بلکہ ہر روز منائیے کیونکہ ماں ایک ایسی دولت ہے جو اگر کھو جائے تو دوبارہ نہیں ملتی بالکل ایک زندگی کی طرح جب موت ا جائے تو زندگی دوبارہ نہیں ملتی.
خدا سب کی ماؤں کو ان کے سروں پر سلامت رکھے اور ان کی دعائیں اپنے بچوں کے کام اتی رہیں امین.

روبینہ شاہین.