رفیع صحرائی
وہی ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ وزیراطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ 4 روزہ مذاکرات کے بعد بات چیت میں قابل عمل حل نہیں نکالا جاسکا، طالبان نے شواہد کے باوجود سرحد پاردہشت گردی روکنے کی کوئی ضمانت نہ دی۔ انہوں نے واضح کردیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔ افغان وفد نے بار بار گفتگو کے اصل مسئلے سے رخ موڑا اورکلیدی نکتے سے انحراف کیا۔ پاکستان نے جو شواہد پیش کیے وہ کافی اور ناقابل تردید تھے۔ مذاکرات کا واحدایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملوں کو رکوانا تھا۔ انہوں نے ڈائیلاگ میں سہولت فراہم کرنے پر قطر اور ترکیہ سے اظہار تشکر کیا اور اس بات پر بھی دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے افغان طالبان رجیم کو دہشتگرد پراکیسز پاکستان کے خلاف لیوریج کے طور پر استعمال کرنے سے باز رکھنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات جاری تھے تاہم طالبان کے مؤقف میں بار بار تبدیلی کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔
اس بات کا سبھی کو اندازہ تھا کہ مذاکرات میں کامیابی ملنا بہت دشوار امر ہے۔ مذاکرات میں ناکامی کی دو سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ افغانی طالبان ہمارے خلاف ہندوستان کی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ میدانِ جنگ میں تاریخ کی بدترین شکست کھانے کے بعد ہندوستان اپنی روایتی مکاری پر اترا ہوا ہے۔ افغان طالبان اور انڈیا کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ انڈیا ان افغانیوں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ وہ مال بنا رہے ہیں اور معصوم لوگوں کا برین واش کر کے پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغان طالبان محسن کْش ہیں۔ پاکستان نے چالیس سال تک قریباً پچاس لاکھ افغانیوں کی میزبانی کی۔ اپنی معیشت کو داؤ پر لگایا مگر جواب میں افغانیوں نے پاکستان میں اسلحہ اور منشیات پھیلا کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔ آئے روز پاکستان میں بم دھماکے اور خودکش حملے کر کے افغانیوں نے نمک حرامی کی بدترین مثالیں قائم کیں۔ اب جبکہ افغانستان کو اپنے لوگوں کی مدد سے تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے، پاکستان میں موجود افغانی پناہ گزیں اپنے ملک واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ زبردستی کے مہمان بن کر پاکستان کی اکانومی پر ناقابلِ برداشت بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہاں سے ڈالرز افغانستان سمگل کر کے پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ پاکستان نے ان افغانیوں کو اپنے شہروں اور دیہات میں آباد کیا لیکن یہ پاکستان کے جسم کے لیے سرطان بن گئے۔ پاکستان جو کبھی امن کا گہوارہ اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا ان افغانیوں نے اسے دہکتا۔ہو جہنم بنا دیا ہے۔
اب جبکہ پاکستان نے تمام افغانیوں کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا ہے تو افغانیوں کو تکلیف شروع ہو گئی ہے۔ انہیں اپنا منشیات اور اسلحہ فروشی کا دھندا بند ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کے پیٹ میں اس لیے مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں کو اسپانسر کر رہا ہے۔ اسے اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔
مذاکرات میں ناکامی کی دوسری بڑی وجہ افغان طالبان کو برابری کی عزت دینا ہے۔ یہ افغانوں کی تاریخ ہے کہ یہ برابری کی سطح پر عزت دینے والے کے ساتھ دھوکہ ضرور کرتے ہیں۔ یہ دب کر یا دولت کے لالچ میں ہی امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ان کی فطرت سے واقف حضرات اسی لیے افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔ برملا طور پر یہ کہا جا رہا تھا کہ افغانی طالبان صرف وقت حاصل کرنے کے لیے جنگ بندی چاہتے ہیں۔ ان کی فطرت میں ڈسنا ہے، یہ پلٹ کر ضرور ڈسیں گے۔ ان کا واحد علاج یہی ہے کہ ان کا سر کچل دیا جائے۔
افغان طالبان کیساتھ مذاکرات ناکام ہوئے۔ انہیں پیار کی زبان اور برابری کی عزت راس نہیں آئی۔ دوسری طرف افغانیوں کی جانب سے ہر بم دھماکے، دہشت گردی اور ہر خودکش حملے کے بعد پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کی مذمت اور ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے گھسے پٹے روایتی بیان جاری کرنے کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ اب پاکستان کی طرف سے مذمت نہیں بلکہ مرمت ہو گی اور یہ مرمت اس وقت تک ہو گی جب تک یہ دہشت گرد جہنم واصل نہیں ہو جاتے یا سرنڈر نہیں کرتے۔ پاکتان کی موجودہ حکومت اور امن و امان قائم کرنے والے ادارے ماضی کا پھیلایا ہوا ہر گند سمیٹنے اور صاف کرنے کے معاملے میں بالکل واضح اور ایک صفحے پر ہیں۔ پاکستان کی بقا اور امن و سلامتی کے لیے یہی واحد راستا باقی بچا ہے۔