خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے 60 کروڑ روپے کی درخواست کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کرم فسادات میں ہوئے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، اور ابتدائی سروے مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں بگن اور دیگر متاثرہ علاقوں کی بحالی شامل ہے۔ڈی سی کرم نے کہا کہ عمارتوں کی آرائش اور مکمل بحالی کے لیے 60 کروڑ روپے درکار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کرم میں امن معاہدے کے تحت غیر قانونی بنکرز کے خاتمے کا عمل بھی جاری ہے۔ اب تک 14 بنکرز کو دھماکوں سے تباہ کیا جا چکا ہے اور 6 بنکرز کو جزوی طور پر ناکارہ بنایا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کرم میں 250 سے زائد غیر قانونی بنکرز قائم ہیں، جنہیں مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کرم میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔