عمران خان کی فیملی کو ملاقات کی پھر اجازت نہ مل سکی

راولپنڈی ( خصوصی رپورٹ )بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کو ملاقات کی پھر اجازت نہ مل سکی،بشریٰ بی بی سے بھابھی مہر النسا کی ملاقات جبکہ بانی پی ٹی آئی سے پانچ وکلا کی ملاقات ہوئی۔ داہگل گورکھ پور اور فیکٹری کے مقام پر ناکے لگائے گئے تھے۔ 5وکلاء￿  کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مل گئی جن میں فیصل چودھری ،محمو دجوئیہ،عثمان گل،ہارون نواز،ظہیر عباس شامل تھے جو گیٹ 5سے جیل کے اندر روانہ ہوئے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی فہرست کے مطابق صرف ایک وکیل ظہیرعباس چودھری کو ملاقات کی اجازت ملی۔علیمہ خان کو بھی پولیس نے مذاکرات کر کے وہاں سے جانے پر راضی کر لیا۔ گورکھپور پولیس ناکے پر نورین خان اور عظمی خانم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیبانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے ملاقات کرنے والے وکلا پر شکوک و شبہات کا اظہار کر دیا اور کہا کہ بانی نے خود بھی ان سے پوچھا کہ وہ کیسے اندر آجاتے ہیں کون انہیں بھیجتا ہے۔ بانی نے کہا موجودہ حکومت میں مودی سے بات کرنے کی جرات نہیں ان کے مفادات ان سے جڑے ہیں۔ ہم حکومت کے ساتھ نہیں ہیں، حکومت کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔ یہ سنجیدہ ہوتے تو مجھ سے رابطہ کرتے۔ہم بانی کو بتائیں گے کہ وہ ایسے وکلاء￿  سے ملنے سے انکار کریں جو ان کے مقدمات نہیں دیکھ رہے، بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دشمن کے اقدامات کے مقابلے میں پاکستان نے جو بھی فیصلے کئے ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔