کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تھرپارکر کے علاقے ڈانو دھاندھل میں ایمبولینس کے اندر آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے 9 افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 20 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کر دیا، جبکہ حادثے کی شفاف تحقیقات اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے اور زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
حادثے کی شفاف تحقیقات کا حکم
سید مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی ہے کہ محکمہ صحت کے ذریعے واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری کرائی جائے اور اس کی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کی آخری رسومات کے انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ رکن سندھ اسمبلی قاسم سومرو کو نگرپارکر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں اور انتظامی اقدامات کی نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی مدد اور زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری ہے، جسے فوری طور پر پورا کیا جانا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری کا بھی واقعے پر اظہارِ افسوس
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھرپارکر میں پی پی ایچ آئی کے زیرِ انتظام ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ڈانو دھاندھل میں آکسیجن سلنڈر کے دھماکے کے نتیجے میں ہونے والا جانی نقصان انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور تمام حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم ہو سکیں۔
غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ المناک حادثہ انسانی غفلت یا کسی مجرمانہ فعل کے باعث پیش آیا تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔انہوں نے تھرپارکر میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موجودہ نظام کا جائزہ لینے اور مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ مستقبل میں انسانی جانوں کو اس نوعیت کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حفاظتی انتظامات اور طبی سہولیات پر سوالات
ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے واقعے نے ہنگامی طبی خدمات میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ آکسیجن سلنڈرز کی مناسب دیکھ بھال، ان کی محفوظ تنصیب اور ایمبولینس میں موجود طبی آلات کی باقاعدہ جانچ مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔