سڈنی: آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز مارنس لبوشین جنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام ہوگئے، جس کے بعد قومی ٹیم میں ان کی جگہ برقرار رہنے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سابق کھلاڑیوں اور کرکٹ ماہرین نے بھی ان کی خراب فارم اور بیٹنگ تکنیک پر تنقید کی ہے۔اسٹیو اسمتھ گردن کی انجری کے باعث میچ میں شرکت نہیں کرسکے تھے، جس کے بعد لبوشین کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا اہم موقع ملا، تاہم وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ آسٹریلوی بلے باز صرف پانچ گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
48 ٹیسٹ اننگز سے سنچری کا انتظار
لبوشین کی حالیہ ناکامی نے ان کی خراب فارم پر بحث مزید تیز کردی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق وہ مسلسل 48 ٹیسٹ اننگز میں سنچری بنانے میں ناکام رہنے والے آسٹریلیا کے پہلے ٹاپ فور بلے باز بن گئے ہیں۔انہوں نے آخری ٹیسٹ سنچری 2023 میں مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ میں بنائی تھی۔ اس کے بعد سے ان کی بیٹنگ اوسط 24.77 رہی ہے، جو ان کے سابقہ معیار کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے لبوشین کی مسلسل ناکامیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں شاید کسی کھلاڑی کو اتنا طویل عرصہ اپنی فارم ثابت کرنے کے لیے نہ دیا جائے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبوشین کی ٹیم میں جگہ کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ سمیت متعدد ماہرین بھی ان کی بیٹنگ تکنیک اور خراب فارم پر تنقید کرچکے ہیں۔
نوجوان بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی
ایک جانب لبوشین رنز بنانے میں مشکلات کا شکار ہیں تو دوسری جانب آسٹریلیا کے دیگر بلے بازوں نے اہم مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچانے میں کردار ادا کیا۔میٹ رینشا نے 74 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ کیمرون گرین نے 65 رنز بنائے۔ جوش انگلس نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 85 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔انگلس اور ایلکس کیری کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 145 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم ہوئی، جس نے آسٹریلیا کو میچ میں برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں برتری
جنوبی افریقا کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 329 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں آسٹریلیا نے 330 رنز پر چار وکٹیں گنوا کر ایک رن کی برتری حاصل کرلی۔آسٹریلیا کے لیے نوجوان اور نسبتاً کم تجربہ کار بلے بازوں کی کارکردگی حوصلہ افزا رہی، جبکہ لبوشین کی ناکامی نے ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں ممکنہ تبدیلیوں کے امکانات کو تقویت دی ہے۔
کیا لبوشین ٹیم میں جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
لبوشین کی مسلسل خراب فارم نے آسٹریلوی سلیکٹرز کے سامنے اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔ ایک طرف ان کا تجربہ اور ماضی کی کارکردگی ہے، تو دوسری جانب رینشا، گرین اور انگلس جیسے کھلاڑی اپنی کارکردگی سے ٹیم میں جگہ بنانے کے امکانات روشن کررہے ہیں۔اگر لبوشین آنے والی اننگز میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی ٹیم میں جگہ پر مزید بحث متوقع ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ سلیکٹرز ہی کریں گے، جو کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی، تکنیک اور ٹیم کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ لائن اپ کا تعین کریں گے۔