لاہور میں فضائی آلودگی کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد شہر آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔
شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 299 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح 500 سے بھی تجاوز کر گئی، جس سے شہریوں کی صحت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کے مطابق سی ای آر پی آفس میں اے کیو آئی کی شرح 585 ریکارڈ کی گئی، جو شہر کے مختلف مقامات میں سب سے زیادہ رہی۔ علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 416 ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث یہ لاہور کے آلودہ ترین علاقوں میں نمایاں رہا۔اسی طرح ایئر واچ پاکستان میں فضائی آلودگی کی شرح 318 اور اے آر سی لاہور میں 310 ریکارڈ کی گئی۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی آلودگی کی سطح بلند رہی۔ کینٹ میں اے کیو آئی 295، ماڈل ٹاؤن میں 281، بیدیاں روڈ پر 278 اور ڈی ایچ اے فیز 5 میں 270 ریکارڈ کیا گیا۔ برکی روڈ، پیراگون اور عسکری 10 بھی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں اضافے سے سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے کی خراش اور کھانسی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ فضائی آلودگی کی بلند سطح بچوں، بزرگوں اور دمہ یا دل و پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آلودگی کی سطح بلند ہونے کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ باہر جانا ضروری ہو تو مناسب حفاظتی ماسک استعمال کریں، گھروں اور دفاتر کی کھڑکیاں بند رکھیں اور کھلی فضا میں سخت جسمانی سرگرمیوں کو محدود کریں۔ سانس لینے میں دشواری یا دیگر سنگین علامات ظاہر ہونے پر طبی مشورہ حاصل کیا جائے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں آج بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث فضائی آلودگی میں کمی کے لیے قدرتی طور پر بارش سے مدد ملنے کی توقع نہیں ہے۔موسمی صورتِ حال کے مطابق شہر کا موجودہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 اور کم سے کم 17 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔ ہوا کی رفتار 2 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ زیادہ سے زیادہ رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 61 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
کم رفتار سے چلنے والی ہوا فضائی آلودگی کے پھیلاؤ اور اس کے منتشر ہونے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم آلودگی کی اصل شدت کا انحصار متعدد عوامل پر ہوتا ہے، جن میں ٹریفک کا دھواں، صنعتی اخراج، تعمیراتی سرگرمیاں، گردوغبار اور موسمی حالات شامل ہیں۔لاہور میں فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح ایک اہم ماحولیاتی اور صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے گاڑیوں اور صنعتوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی نگرانی، تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کی روک تھام، صاف ایندھن کے استعمال اور ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔