لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست، اے کیو آئی 326 ریکارڈ

لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست، اے کیو آئی 326 ریکارڈ

لاہور میں اسموگ کے ڈیرے برقرار ہیں اور فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث فضا مضرِ صحت ہوگئی ہے۔

شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 326 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا۔ فضائی آلودگی کے باعث مختلف علاقوں میں حدِ نگاہ بھی متاثر ہونے لگی ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح خطرناک سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 605 تک پہنچ گیا، جبکہ گلبرگ ٹو میں 553 ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح پیراگون سٹی میں اے کیو آئی 372، کینٹ میں 355 اور برکی روڈ پر 348 رہا۔شہر کے دیگر علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ چمن پارک میں اے کیو آئی 280، ماڈل ٹاؤن میں 279، ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 268، بیدیاں روڈ پر 238 اور عسکری ٹین میں 215 ریکارڈ کیا گیا۔فضائی آلودگی کے ان اعداد و شمار کے مطابق متعدد علاقوں میں ہوا کا معیار صحت کے لیے نقصان دہ سطح پر موجود ہے۔ ماہرینِ صحت کی عمومی ہدایات کے مطابق آلودہ فضا میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا، کھڑکیاں بند رکھنا اور بیرونی سرگرمیاں محدود کرنا خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے اہم ہے۔

دوسری جانب شہر میں موجودہ درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری جبکہ کم سے کم 18 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 71 فیصد ہے، جبکہ ہوائیں 5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔ شہر میں آج بارش کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا گیا، جس کے باعث بارش کے ذریعے فضائی آلودگی میں کمی کی توقع نہیں ہے۔لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی شہریوں کی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ آلودہ فضا کے باعث آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں، خصوصاً حساس افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ فضائی آلودگی کی موجودہ صورتحال میں غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو مناسب حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے دھوئیں کے اخراج کو محدود کرنے اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔