کئی علاقوں میں پانی بحران

ٹیوب ویل چلانے کیاوقات کار کم ،دورانیہ 8 گھنٹے مقرر ،لوڈ شیڈنگ سے بھی پانی نہیں آرہا
 200 ٹیوب ویل کے جنریٹرز غیرفعال،300 کیساتھ موجود نہیں کئی علاقوں میں پانی نہیں آرہا 
لاہور (کرائم رپورٹر) واسا نے مبینہ طور پر بجلی اور پانی بچانے کیلئے غیر سرکاری طور پر ٹیوب ویل چلانے کیاوقات کار کم کر دئیے جس کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی کا بحران پیدا ہونے لگا۔واسا نے پانی کی کھپت کم ہونے کا بہانہ بنا کر ٹیوب ویل چلانے کے اوقات 10 بارہ گھنٹوں سے کم کر کے 8 گھنٹے کر دئیے۔8گھنٹوں کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بھی پانی گھروں میں نہیں آرہا۔دوسری جانب واسا کے شہر میں نصب 300 ٹیوب ویل کے ساتھ جنریٹرز بھی موجود نہیں جبکہ 200 ٹیوب ویل کے ساتھ لگے جنریٹرز غیر فعال ہیں،نصب جنریٹرز کے ٹیوب ویلز کے ساتھ کنکشنز ہی نہیں کئے گئے۔ لوڈشیڈنگ کے دوران شہر میں پانی کی فراہمی کے لئے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا،اس دوران شہر میں پانی کی قلت معمول بن گئی۔ شہباز دور حکومت میں ٹیوب ویلز کے ساتھ جنریٹرز لگائے گئے تھے جو دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہونے لگے۔اسی طرح ٹیوب ویلز کی بندش کے سبب فلٹریشن پلانٹس سے بھی پانی کی سپلائی معطل ہوجاتی ہے۔ذرائع نے بتایا واسا انتظامیہ نے مالی بحران سے بچنے کیلئے جنریٹرز کو بند کیا۔موجودہ صورتحال میں گلبرگ جے بلاک، مکہ کالونی، ماڈل کالونی کے رہائشی پانی سے محروم ہیں۔ ماڈل ٹائون ایکسٹینشن، کریم بلاک اور ہما بلاک اقبال ٹائون میں پانی نہیں آرہا۔مال روڈ، دیال سنگھ مینشن، ریگل چوک ،نیلی بار چوک، اسلام پورہ، کرشن نگر کے علاقوں میں بھی پانی کی قلت برقرار ہے۔