سینیٹ کمیٹی نے داسو ہائیڈرو پاور ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں میگا کرپشن کی نشاندہی کر دی

سینیٹ کمیٹی نے داسو ہائیڈرو پاور ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں میگا کرپشن کی نشاندہی کر دی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے داسو ہائیڈرو پاور ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں تقریباً 600 ملین روپے کی مبینہ کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ نیسپاک نے بولی دہندہ کی جانچ پڑتال کے دوران غلط اعدادوشمار فراہم کیے، جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اس منصوبے کا ٹھیکہ 2015 میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ایک خط کی بنیاد پر ایک کمپنی کو دیا گیا، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک خط کی بنیاد پر یہ منصوبہ کمپنی کو کیسے سونپ دیا گیا۔کمیٹی نے نیسپاک کے افسران اور متعلقہ ملازمین کی جانب سے غلط اعدادوشمار فراہم کرنے پر کارروائی کا حکم دیا اور ان ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کی تجویز دی۔ کمیٹی نے نیب اور ایف آئی اے کو بھی معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا اور پاور ڈویژن کی غفلت کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جھوٹ چھپانے کے لیے متعدد جھوٹ بولے گئے، اور نیسپاک کے ایم ڈی نے غلط اعدادوشمار فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 22 ارب ڈالر قرض لینے کا منصوبہ ہے، جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔یہ معاملہ ملک کی توانائی کے اہم منصوبے میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے شدید سوالات کھڑے کر رہا ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کو ہر متعلقہ ادارے کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔