ماہر ہوابازی عمران اسلم خان نے خبردار کیا ہے کہ سمندر میں گرنے والی فلائٹ 1732 کے بلیک باکس کے انڈر واٹر لوکیٹر بیکنز کے سگنلز 6 اگست کو خاموش ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث طیارے کے ملبے اور بلیک باکس کی تلاش مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلیک باکس کے سگنلز عموماً 30 روز تک فعال رہتے ہیں، جس کے بعد ان کا بند ہو جانا سرچ آپریشن کو انتہائی پیچیدہ، مہنگا اور وقت طلب بنا دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرچ آپریشن کو فوری طور پر گہرے سمندر کی جانب منتقل کیا جائے۔عمران اسلم خان کے مطابق موجودہ صورتحال میں سطح سمندر پر تلاش مؤثر ثابت نہیں ہو رہی کیونکہ قوی امکان ہے کہ طیارے کا اصل ملبہ سمندر کی تہہ میں موجود ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اورماڑہ کے قریب تقریباً 3 ہزار میٹر گہرائی میں سونار ٹیکنالوجی کے ذریعے سرچ آپریشن پر توجہ دی جائے تاکہ ملبے تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹوڈ پنگر لوکیٹرز اور خودکار زیرِ آب گاڑیوں (AUVs) کے استعمال سے تلاش کے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق طیارے کا بھاری ملبہ آخری ریڈار مقام کے قریب موجود ہونے کا امکان ہے، جبکہ سطح پر موجود ملبہ سمندری لہروں اور بہاؤ کے باعث وسیع علاقے میں پھیل چکا ہے۔ماہر ہوابازی نے اس بات پر زور دیا کہ بلیک باکس کے سگنلز بند ہونے سے پہلے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گہرے سمندر میں سرچ آپریشن شروع کرنا ضروری ہے تاکہ حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد دینے والے اہم شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔ انہوں نے حادثے کے بعد ابتدائی 12 گھنٹوں میں پاکستانی سرچ ٹیموں کی کوششوں کو بھی سراہا۔