واشنگٹن (نیٹ نیوز ): دنیا کا خاتمہ کب تک متوقع ہے قیامت کی گھڑی (آرما گیڈن) نے اس کی تازہ ترین پیشگوئی کر دی ہے۔کئی غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق واشنگٹن میں جوہری سائنسدانوں نے دنیا کے خاتمے کی گھڑی (ڈومس ڈے کلاک) مزید قریب آننے کی پیشگوئی کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس (بی اے ایس) نے شکاگو یونیورسٹی کے بی اے ایس دفتر قیامت کی گھڑی (ڈومس ڈے کلاک) کو تین سال بعد پہلی بار نصف شب سے قبل 89 سیکنڈ تک ایک سیکنڈ آگے بڑھایا، جو چار سیکنڈ آگے بڑھی ہے۔ یہ عالمی تباہی یا دنیا کی تباہی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب واضح اشارہ ہے۔بلیٹن کی سی ای او، الیگزینڈرا بیل نے کہا کہ انسانیت نے زمین کو غیر آباد بنانے سے روکنے کے لیے کافی کام نہیں کیا۔ ’ہر سیکنڈ بتا رہا ہے کہ ہمارا وقت ختم ہو رہا ہے۔ یہ بات خوفناک مگر سچ ہے اور مجموعی طور پر، 2025 وجودی خطرات کو آگے بڑھانے کے لحاظ سے ایک بہت ہی تاریک تصویر رہا ہے۔ قیامت کی گھڑی کے آگے بڑھنے کی بڑی وجہ یہ خوف بھی ہے کہ تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔‘یہ گھڑی 1947 میں بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس نے بنائی تھی، جس کی بنیاد دو سال قبل سائنسدانوں البرٹ آئن اسٹائن، جے رابرٹ اوپن ہائیمر اور یوجین رابینوچ نے شکاگو یونیورسٹی کے اسکالرز کے ساتھ مل کر رکھی تھی۔اس دوران گھڑی آدھی رات کو سات منٹ پر سیٹ کر چکی تھی۔ لیکن جب سوویت یونین نے 1949 میں اپنے پہلے ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کیا تو رابینووچ، جو اس وقت بلیٹن کے ایڈیٹر تھے، نے گھڑی کو آدھی رات سے تین منٹ پر منتقل کر دیا۔اب موجودہ دور میں جوہری ہتھیاروں، موسمیاتی تبدیلیوں، حیاتیاتی ہتھیاروں، متعدی بیماری، اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسی خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز سے جاری خطرات نے گھڑی کو 78 سالوں میں اپنے تازہ ترین وقت پر لایا ہے۔Apocalyptic خطرات سیاسی کشیدگی، ہتھیاروں، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی یا وبائی امراض سے پیدا ہو سکتے ہیں۔