اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرکاری سکولوں میں اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، نصاب میں بہتری، اساتذہ کی تربیت، طلباء و طالبات کی غذائی ضروریات اور تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد کے تمام سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر، نصاب، اساتذہ کی تربیت اور دیگر ضروری اصلاحات پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم و تدریس پر مرکوز رکھیں اور انہیں تدریسی ذمہ داریوں کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں شامل نہ کیا جائے۔ انہوں نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو ایک مؤثر اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں وزیراعظم نے سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر کے مسائل فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کو ہدایت کی کہ اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے مسائل ایک ہفتے کے اندر حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے طلباء و طالبات کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سرکاری سکولوں میں مفت لنچ کا نظام فعال کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت اور بہتر نشوونما کے لیے مناسب غذائیت ضروری ہے، اس لیے تعلیمی اداروں میں طلباء کی فلاح و بہبود کو خصوصی اہمیت دی جائے۔
اجلاس میں سرکاری سکولوں کو جدید تعلیمی سہولیات سے آراستہ کرنے کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعظم نے تمام سکولوں میں سمارٹ بورڈز جلد از جلد نصب کرنے، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر لیبز سمیت دیگر ضروری سہولیات کو بہتر بنانے اور تعلیمی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا۔وزیراعظم نے اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ کو بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سرکاری سکولوں میں تقرریاں صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔ انہوں نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بہتر بنانے اور سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو مزید بااختیار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔طلباء و طالبات کو سکولوں تک آمدورفت کی بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم نے سرکاری سکول بسوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے طلباء کی نقل و حمل کے نظام میں بہتری کے لیے سرکاری بسوں کی آؤٹ سورسنگ اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت اسلام آباد بھر کے سرکاری سکولوں میں طلباء و طالبات کی آمدورفت کے لیے 278 سرکاری بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹرانسپورٹ کی سہولت کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء اس سے مستفید ہو سکیں۔وزیراعظم نے سرکاری سکولوں میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کی ہدایت بھی کی۔ اس کے علاوہ جسمانی معذوری کے حامل طلباء و طالبات کی سہولت کے لیے تمام سرکاری سکولوں میں ریمپ تعمیر کرنے اور تعلیمی اداروں میں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کی ستمبر 2026 میں جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں وفاقی دارالحکومت کے سرکاری سکولوں کے نصاب، انفراسٹرکچر اور دیگر امور سے متعلق سروے رپورٹ پیش کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے زیادہ تر سرکاری سکولوں میں انٹرنیٹ، پینے کا صاف پانی، کمپیوٹر لیبز اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں، تاہم بعض سکولوں میں انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات سے متعلق مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی۔اجلاس میں ان مسائل کے حل، سکولوں کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور تعلیمی اداروں میں جدت کو فروغ دینے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اصلاحاتی اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطاء اللہ تارڑ اور خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔