لاہور: صوبائی دارالحکومت میں روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھنے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں روٹی 20 روپے جبکہ نان 35 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ سستے آٹے کی فراہمی بند ہونے اور تندور مالکان کے اخراجات بڑھنے کے باعث روٹی اور نان کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے موجودہ حالات میں سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آٹے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تندور مالکان کے لیے مقررہ سرکاری نرخوں پر روٹی اور نان فروخت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
سستے آٹے کی فراہمی بند، تندور مالکان پریشان
متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب اسلم گل کے مطابق ماضی میں محکمہ خوراک کی جانب سے تندور مالکان کو سستا آٹا فراہم کیا جاتا تھا، جس کی مدد سے سرکاری نرخوں کے مطابق روٹی فروخت کرنا ممکن ہوتا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ پہلے 10 کلو آٹے کا تھیلا 1100 روپے میں دستیاب تھا، تاہم اب 15 کلو آٹے کا تھیلا 2350 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اس فرق نے تندور مالکان کے پیداواری اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق جب تندور مالکان کو مناسب قیمت پر آٹا دستیاب نہیں ہوگا تو ان کے لیے سرکاری نرخوں پر روٹی اور نان کی فروخت جاری رکھنا مشکل ہوگا۔ ان کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کے تعین میں آٹے اور دیگر ضروری اشیا کی موجودہ لاگت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ بھی مسئلہ بن گیا
آفتاب اسلم گل نے کہا کہ تندوروں میں استعمال ہونے والی ایل پی جی کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، جس سے کاروباری اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ آٹے کے ساتھ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نان بائیوں کے لیے کاروبار چلانا مشکل بنا دیا ہے۔ان کے مطابق تندور مالکان کو آٹا، ایندھن اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں سرکاری نرخوں پر روٹی اور نان فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔
شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ
لاہور میں روٹی اور نان روزمرہ خوراک کا بنیادی حصہ ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے آٹے اور روٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اضافی مالی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔سستے آٹے کی فراہمی بند ہونے اور تندور مالکان کے اخراجات میں اضافے کے باعث شہریوں کو خدشہ ہے کہ روٹی اور نان کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم قیمتوں میں آئندہ اضافے کا انحصار آٹے اور ایندھن کی دستیابی، پیداواری لاگت اور حکومتی اقدامات پر ہوگا۔
حکومت سے آٹے اور گیس کی سستی فراہمی کا مطالبہ
متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب اسلم گل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تندور مالکان کو آٹا اور گیس سستے داموں فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ روٹی اور نان کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت تندور مالکان کے اخراجات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے تو سرکاری نرخوں پر عمل درآمد میں مدد مل سکتی ہے۔