اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ کے احکامات کی روشنی میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے مؤثر پولیسنگ، جرائم کی روک تھام، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور پٹرولنگ کے نتیجے میں مجموعی کرائم کالز میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اسلام آباد میں مجموعی کرائم کالز کی تعداد 6 ہزار 506 سے کم ہو کر 4 ہزار 444 رہ گئی۔ اس طرح کرائم کالز میں مجموعی طور پر 2 ہزار 62 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈکیتی اور سنیچنگ کی وارداتوں میں نمایاں کمی
اسلام آباد پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی کے واقعات سے متعلق کالز میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 20 سے کم ہو کر 7 رہ گئی۔اسی طرح سنیچنگ کے واقعات کی کالز میں 48 فیصد کمی ہوئی اور تعداد 930 سے کم ہو کر 487 ہوگئی۔ ڈکیتی کے ایک دوسرے درج شدہ زمرے میں بھی 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں کالز کی تعداد ایک ہزار 369 سے کم ہو کر 961 رہ گئی۔
کار اور موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں کمی
پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں کار چوری کے واقعات کی کالز میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد تعداد 259 سے کم ہو کر 92 رہ گئی۔موٹر سائیکل چوری کے واقعات کی کالز میں بھی 32 فیصد کمی ہوئی اور تعداد 2 ہزار 666 سے گھٹ کر ایک ہزار 810 ہوگئی۔گاڑیاں چھیننے کے واقعات کی کالز 7 سے کم ہو کر 4 رہ گئیں، جو 43 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات کی کالز میں 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور تعداد 231 سے کم ہو کر 146 ہوگئی۔
قتل اور نقب زنی کی کالز میں بھی کمی
اسلام آباد پولیس کے مطابق گاڑیوں کی چوری کے واقعات کی کالز میں 9 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد تعداد 22 سے کم ہو کر 20 رہ گئی۔قتل کے واقعات سے متعلق کالز میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور تعداد 31 سے کم ہو کر 28 ہوگئی۔ دوسری جانب نقب زنی کے واقعات کی کالز میں 8 فیصد کمی ہوئی اور تعداد 971 سے گھٹ کر 889 رہ گئی۔
جرائم کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
اسلام آباد پولیس کے مطابق جرائم کی روک تھام کے لیے ٹارگٹڈ آپریشنز جاری ہیں، جبکہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور مؤثر پٹرولنگ کے ذریعے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پر قابو پانے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔