پنجاب حکومت کا اسلحہ قوانین سخت کرنے اور ڈرون پولیسنگ کا اعلان

پنجاب حکومت کا اسلحہ قوانین سخت کرنے اور ڈرون پولیسنگ کا اعلان

پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان بہتر بنانے اور قانون کے نفاذ کے لیے اہم اقدامات کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈرون پولیسنگ اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

 اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر قانونی اسلحہ کی موجودگی میں ملوث افراد سے 15 دن کے اندر اندر اسلحہ واپس لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، پنجاب میں وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والے افراد کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ قانون کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔نئے قوانین کے تحت، صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سکیورٹی گارڈز کو ہی اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے اداروں کی تصدیق بھی کی جائے گی تاکہ غیر قانونی اور مشتبہ اسلحہ کو روکنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔اس کے علاوہ، نجی سکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کرنے اور ان کے لیے قواعد وضع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کے سکیورٹی گارڈز کو اب پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ سکیورٹی کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔

پنجاب میں کرائم سین پر فوری اور منظم ردعمل کے لیے، ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت، اہم داخلی اور خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے تاکہ مشتبہ اسلحہ کی موجودگی کا جلد پتہ چلایا جا سکے۔مزید برآں، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ اسلحہ کی قانونی رجسٹریشن اور ریگولیشن کو سخت کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اسلحہ اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 14 سال قید کی سزا مقرر کی جائے گی تاکہ اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل اور استعمال کو روکا جا سکے۔یہ تمام اقدامات پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے، قانون کی خلاف ورزیوں کو کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔