شہریوں نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس ختم کرنے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں، کیونکہ ایندھن کے نرخوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے بعد پٹرول فی لیٹر 3 روپے 19 پیسے سستا کردیا گیا، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس تبدیلی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 378 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 400 روپے 74 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔شہریوں نے پٹرول کی قیمت میں کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ عوام کو مزید ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کے بجائے عوام کو ایسا ریلیف دیا جائے جس سے گھریلو بجٹ پر پڑنے والا دباؤ کم ہوسکے۔شہریوں کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ مال بردار گاڑیوں، بسوں اور دیگر تجارتی ذرائع نقل و حمل میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کی صورت میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام شہریوں تک پہنچنا چاہیے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے پیدا ہونے والے ممکنہ اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔شہریوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیوی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف ذاتی سفری اخراجات میں کمی آسکتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔