آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے۔
اس اجلاس میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے مکمل مشاورت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے وزیراعظم کے لیے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے سے انکار کیا جائے گا۔واضح رہے کہ، اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ تحریک عدم اعتماد کا معاملہ اور قائد ایوان کے انتخاب کے معاملات الگ ہیں۔ حکومت کی تبدیلی کے لیے پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون جاری رہے گا، مگر قائد ایوان کے انتخاب میں ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جلد ہی آزاد کشمیر میں الیکشن سے متعلق پیپلز پارٹی کے ساتھ مشاورت کی جائے گی تاکہ آئندہ کے سیاسی امور طے کیے جا سکیں۔ سیاسی رابطہ کمیٹی نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو بھی پیپلز پارٹی سے طے پانے والے فارمولے پر اعتماد میں لیا ہے۔
مزید برآں، اجلاس میں آیندہ کا سیاسی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ سیاسی رابطہ کمیٹی آزاد کشمیر کی قیادت سے مشورہ لے گی اور وزیراعظم شہباز شریف کو وطن واپسی پر بریفنگ دی جائے گی۔اس اجلاس میں مرکزی قیادت کے علاوہ احسن اقبال، رانا ثناءاللّہ، وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، راجا فاروق حیدر، پارلیمانی ارکان، اور دیگر مرکزی عہدیداران شریک تھے۔ یہ اجلاس ایک اہم مرحلہ تھا جس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے اقدامات پر غور کیا گیا۔