لاہور ہائیکورٹ میں تاریخی اصلاحات، زیر التواء مقدمات میں 11 فیصد کمی

لاہور ہائیکورٹ میں تاریخی اصلاحات، زیر التواء مقدمات میں 11 فیصد کمی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی تاریخی عدالتی اصلاحات کے نتیجے میں ہائیکورٹ کی تاریخ میں پہلی بار زیر التواء مقدمات میں 11 فیصد تک نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

 جون 2024 میں لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد تقریباً 1 لاکھ 98 ہزار تھی، جو 24 اکتوبر 2025 تک کم ہو کر 1 لاکھ 76 ہزار رہ گئی ہے۔ یہ کمی کئی دہائیوں میں پہلی بار اتنی بڑی سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عہدہ سنبھالتے ہی عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کیں، جن میں کیس مینجمنٹ سسٹم کی بہتری، مقدمات کی بروقت سماعت کو یقینی بنانے کے لیے ورک فلو ٹریکنگ، اور عدالتوں میں مانیٹرنگ و ایویلیوایشن کے میکنزم کا قیام شامل ہے۔ ان اقدامات سے عدالتی نظام کی شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور مقدمات کے نمٹارے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔