سال 2025 میں عدالتوں کی طرف سے بروقت انصاف کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بننے جا رہی ہے۔
اس وقت 15 لاکھ مقدمات التواء کا شکار ہیں، اور لاہور ہائیکورٹ میں 25 ججز اور ضلعی عدالتوں میں 750 ججز کی کمی کا سامنا ہے۔رواں سال میں لاہور ہائیکورٹ کے 2 اور ضلعی عدالتوں کے 20 سیشن ججز ریٹائر ہوں گے، جس سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ججز کی مزید ریٹائرمنٹ کے ساتھ انصاف کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔مقامی وکلاء اور سائلین نے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں پر جلد ججز تعینات کیے جائیں تاکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔
2025 میں ریٹائر ہونے والے ججز کی فہرست میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوارِ الحق پنوں، جسٹس علی باقر نجفی، اور دیگر ضلعی عدالتوں کے ججز شامل ہیں۔ان ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدالتوں میں مزید کمی کے امکانات ہیں، جو مقدمات کے التوا کی مزید وجوہات بنیں گی۔ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ججز کی آسامیوں پر تقرریوں کا عمل ضروری ہو گا تاکہ عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو روکا جا سکے۔