محمد علی پاکی
پاکستان کی سیاست اور معیشت میں پاکستانی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا دینی جماعتیں انکو ریاست اور حکومت کے ساتھ مثبت رویہ رکھنا چاہئے تاکہ ملک و ریاست میں امن و امان ہو اور معیشت کا پہیہ روانی سے چلتا رہے تاکہ ملک و قوم ترقی کرسکیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ سیاسی اور دینی جماعتوں کے منفی رویوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں نے پاکستان کو پنپنے اور ترقی کرنے کا
موقع نہیں دیا۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس پاک وطن میں کبھی سیاسی میدان میں قوم کو مختلف نعروں اور جھوٹے وعدوں کے ساتھ ان کے جذبات سے کھیلا گیا اور کبھی مذہبی میدان میں اسلام کی نام لیکر اور اسلامی ٹچ دیکر ریاست اور حکومت کے خلاف اکسایا گیا۔ سیاسی لیڈران عوام دوست ہونے کے دعویٰ کے باوجود عوام کے فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کیلئے کچھ نہ کرسکے۔ عوام میں شعور کا فقدان ہونے کی وجہ سے اور کم علمی کی وجوہات کی بنا پر آج تک ان لیڈران کو اپنے سر پر بٹھاتے ہیں ان کے لئے جان دیتے ہیں جن کی اپنی انفرادی زندگی عیش و عشرت میں گزری ہوتی ہے جن کو غریبوں کے بنیادی حقوق کا پتا نہیں ہوتا۔ ان کا لیڈر اپنے حویلی نما گھر کے ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر اپنے غریب اور متوسط طبقے عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان میں اس طرز کی سیاست نے عوام اور پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ عوام اور پاکستان سیاسی میدان میں مخلص، عوام دوست اور سچا لیڈر نہ ہونے کی وجہ سے آج تک اسکا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور ملک و قوم اس وجہ سے ترقی اور کامیابی کے منازل نہیں طے کرسکے، پاکستان اور عوام ہمیشہ اچھائی کی امید کے دوراہے پر رہے کے اب اس ملک و قوم کے حالات بدلے اور یہ امید ہمیشہ افسوس کے تجربے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا۔
کچھ دینی جماعتوں کو بھی کردار عوام اور ریاست دوست نہ تھا اور اپنے مقاصد کے تحت عوام، ریاست اور اسلام کا استعمال کیا، جس سے ملک میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے کیونکہ لوگوں کے جذبات کو ابھارا گیا اور اسلام کا نام لیکر عوام کو ریاست اور حکومت مخالف کیا گیا، جلاؤ گھیراؤ کی سیاست سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا گیا۔ جس کی حالیہ مثال ایک دینی جماعت کے احتجاج کی ہے اس نے ایسے وقت فلسطین کے لئے آواز اٹھائی اور عوام کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کیا جب فلسطین میں غزہ کے معاملے میں اسرائیل اور امریکہ نے مذاکرات کے دعوت دے کر غزہ میں کھیلے گئے خون کی ہولی کو کم کرنے کا اشارہ دیا۔ اس مذاکرات کی دنیا نے تائید کی کے کم از کم خون ریزی تو کم ہو اور معصوم جانوں کے بچاؤ کا ذریعہ بنے۔ جب غزہ امن کی بحالی کی کوششوں کی طرف بڑھ رہا تھا ایسے وقت میں نامعلوم وجوہات کے بنا پر عوام کو غزہ اور اسلام کے نام پر ریاست اور حکومت مخالف مظاہروں پر آمادہ کیا گیا اور ملک میں افراتفری اور بے سکونی کی کیفیت پیدا کی گئی۔
سابقہ دور میں سیاسی اور دینی جماعتوں کے ساتھ بہت دوستانہ رویہ رکھا گیا اور انکی ہر جائز اور ناجائز مطالبات کو تسلیم کیا گیا جس سے ان ریاست مخالف سیاسی اور دینی جماعتیں ریاست کے کنٹرول سے باہر ہوگئیں جو کے ریاست پاکستان کے سالمیت کیلئے خطرہ بن گئیں۔
اس تناظر میں موجودہ فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب نے ملک و قوم کی خاطر اور اسکی سالمیت کے خاطر بہت بیباک فیصلہ کیا کے اب ایسی تمام جماعتوں کو وہ چاہے سیاسی ہوں یا دینی جو بھی پاکستان کی ریاست اور عوام کے مخالفت میں کام کرے یانقصان پہنجائے ایسی جماعت پر پابندی لگادی جائے اور اسے کالعدم کردیا جائے جیسے کے وزارت داخلہ نے تحریک لبیک TLP پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا، تحریک لبیک کالعدم قرار دے دی گئی۔ اسی طرح کا فیصلہ ہر اس سیاسی جماعت کے ساتھ بھی ہو جو کے ریاست پاکستان، اداروں اور عوام کے مخالفت میں کام کرے اور پاک وطن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے ایسی جماعت اور اسکے سربراہ پر بھی فی الفور پابندی لگادی جائے تاکے پاکستان اور عوام جو کے ایک عرصے سے سیاسی اور دینی جماعتوں کے چنگل میں بری طرح پھنسے ہیں آزاد ہوسکیں اور ملک و قوم ترقی کرسکیں اور دنیا میں اپنا لوہا منوا سکیں۔
علی پاکی