چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، سہیل آفریدی، سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق، سہیل آفریدی نے رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے، مگر وہاں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ملاقات نہ ہونے کے بعد، سہیل آفریدی، علیمہ خان اور دیگر وکلاء چیف جسٹس کے سیکرٹری کے آفس سے واپس روانہ ہو گئے۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی شنوائی نہیں ہوئی اور چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا ہے کہ وہ ان سے ملاقات نہیں کر سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج نہ تو قومی اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ کے اجلاس چلیں گے، اور یہ کہ آئندہ منگل کو ہائی کورٹ کے باہر اور اڈیالہ جیل کے باہر بھی اجتماع کیا جائے گا۔
دوسری جانب، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات کرنے سے انکار کیا ہے اور بتایا کہ چیف جسٹس کسی سے بھی ملاقات نہیں کر رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس نے نہ تو ایڈووکیٹ جنرل سے اور نہ ہی کسی وکیل سے ملاقات کی ہے۔یہ صورتحال عدلیہ اور سیاسی حکومتی عہدیداران کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے، جس میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے فیصلے اہم کردار رکھتے ہیں۔