بیٹا قتل کرانیکا الزام،باپ اور دوسرے بیٹے کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگ گئیں
سرگودھا(خصوصی رپورٹ)بیٹے کو قتل کروانے کیکرائے کے قاتلوں کے انکشاف پر باپ اور دوسرے بیٹے کی عبوری ضمانتیں خارج کر دی گئیں اور ان کو بھری عدالت میں ہتھکڑیاں لگوادی گئیں،تھا نہ جھا ل چکیا ں میں در ج ہو نے وا لے اندھے قتل کے مقدمہ کی تفتیش ایک نئے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ، تفصیلا ت کے مطا بق 13 فروری 2025ء کو چک 55 شما لی کے با بر سلطا ن نے مقدمہ در ج کروا یا کہ اس کا حقیقی بھا ئی فرخ سلطا ن اپنے ڈیرے پر سویا ہوا تھا جسے جگا نے کے لئے صبح وہ اس کے کمرے میں گیا تو اس کی خو ن میں لت پت لاش پڑی تھی پو لیس نے مقدمہ در ج کر لیا، پو لیس تفتیش کے مطا بق مقتو ل فرخ سلطا ن کے دائیں کنپٹی اور با ئیں پسلی میں فا ئر لگے تھے ،ڈا کٹر ی رپورٹ میں انکشا ف ہو اکہ دو نو ں فا ئر دو مختلف پستولوں سے کئے گئے ، اس دوران مدعی بابر سلطان کا چھوٹا بھا ئی محمد شیرا ز اچانک ڈی پی او آفس پیش ہو گیا اور ڈی پی او کو کرائے کے قاتلوں جا وید اور حسن کی نشاندہی کی جنہیں فوری گرفتار کر لیا گیا دورا ن تفتیش دو نوں ملزموں نے انکشا ف کیا کہ فرخ سلطا ن کو اجرت لے کر قتل کیا ہے اور ان کو رقم خو د مقدمہ کے مدعی با بر سلطا ن اور اس کے حقیقی وا لد محمد ممتا زنے دی تھی، اس انکشا ف کے بعد بابر سلطان اور محمد ممتاز نے عبوری ضمانتوں کے لئے درخواست دیدی اور م ئو قف اختیار کیا کہ چھوٹے بیٹے شیرا ز نے جا ئیدا د کے لا لچ میں پولیس کو جھوٹا بیا ن دیا اور پو لیس بھی رقم لے کر شیرا ز کے سا تھ مل گئی ہے اور انھیں مدعی سے ملز م بنا رہی ہے جبکہ اس دورا ن شیرا ز کے وکیل لا ہو ر ہا ئی کورٹ کے سنیئر قا نو ن دا ن محمد امیر خا ن روکھڑی نے عدا لت میں ملزم ممتا ز ، با بر سلطا ن اور اجرتی قا تلوں جا وید اور حسن کی ٹیلی فو ن گفتگو کا ریکا رڈپیش کیاتما م ثبوت دیکھنے اور سننے کے بعد فاضل جج مظفر علی انجم نے ملزموں کی ضمانتیں خارج کرتے ہوئے انھیں بھر ی عدا لت میں ہی ہتھکڑیاں لگوا دیں اور پولیس کو مقتول فرخ سلطان کے چھوٹے بھائی شیراز کی مدعیت میں دوبارہ مقدمہ در ج کر نے کا حکم دیا۔