تہران کی تاریخی یونیورسٹی پر بمباری، عالمی سطح پر ردعمل

تہران کی تاریخی یونیورسٹی پر بمباری، عالمی سطح پر ردعمل

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع تہران سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی پر مبینہ حملے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ یونیورسٹی 97 سال پرانی ہے اور ملک کی معروف تعلیمی و تحقیقی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ بمباری یا کسی اور نوعیت کے حملے کے نتیجے میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور طلبہ و عملہ خوف و ہراس کا شکار ہیں۔حملے کے فوری بعد یونیورسٹی کے علاقے میں سیکورٹی فورسز تعینات کی گئیں اور متاثرہ حصے کی ابتدائی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے میں انسانی جانوں کو نقصان پہنچا یا نہیں، تاہم بعض ذرائع نے معمولی زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔بین الاقوامی برادری اور اوورسیز ایرانی کمیونٹی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 متعدد حلقوں نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ محفوظ زون تصور کیے جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف تعلیمی اداروں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس سے عالمی امن اور استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایران کی حکومت نے بھی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے تاکہ واقعے کے محرکات اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔