کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی حکومت پر وعدہ شکنی کا الزام عائد کرتے ہوئے 5 ستمبر کو ایک بار پھر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان سورو داس کے مطابق، پیپر لیک کے باعث دلبرداشتہ ہو کر جان گنوانے والے طلباء کے والدین کو ابھی تک مودی حکومت نے معاوضہ ادا نہیں کیا ہے۔بھارتی حکومت نے طلباء کے خلاف درج متعدد ایف آئی آر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سی جے پی کے احتجاج کے دوران، مودی حکومت نے اقتدار کی خاطر نوجوان نسل کے خلاف بربریت کی انتہا کرتے ہوئے طاقت کا استعمال کیا۔ اس دوران، بھارتی فورسز نے نوجوانوں پر گولیاں چلائیں، شاٹ گن، آنسو گیس، گرینیڈز اور الیکٹریک شاک جیسے ہتھیار استعمال کیے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، احتجاج کے دوران بھارتی فورسز نے غیرقانونی اور مہلک طاقت کا استعمال کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی پولیس نے نوجوانوں پر پیلٹ گنز کا بھی استعمال کیا، جن سے کشمیری نوجوانوں کی اموات اور اندھے پن کے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے چیئرمین آکر پٹیل کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے مواصلاتی بلیک آؤٹ اور رکاوٹوں کے ذریعے پرامن مظاہرین کو دبانے کے لیے غیرضروری اور تشدد پر مبنی طاقت کا استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق، مظاہرین پر طاقت کے استعمال میں اضافی ہتھیار، جیسے پیلٹ گنز، استعمال کیے گئے، جن سے کشمیری نوجوانوں میں اموات اور بینائی سے محرومی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔