لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، ایئر کوالٹی انڈیکس 238 ریکارڈ

لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، ایئر کوالٹی انڈیکس 238 ریکارڈ

لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا، شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 238 ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث فضا غیر صحت بخش ہوگئی اور شہریوں کی صحت کے حوالے سے تشویش بڑھنے لگی۔

شہر کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح 200 سے تجاوز کر گئی، جبکہ بعض مقامات پر اے کیو آئی انتہائی بلند سطح تک پہنچ گیا۔ برکی روڈ پر ایئر کوالٹی انڈیکس 410 ریکارڈ کیا گیا، جو آلودگی کی انتہائی بلند سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 382 اور سول سیکرٹریٹ کے علاقے میں 360 ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق لاہور کینٹ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 265، ماڈل ٹاؤن اور ڈی ایچ اے فیز 5 میں 245، جبکہ عسکری 10 میں 172 ریکارڈ کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح میں فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کے بعض حصوں میں فضائی آلودگی کی شدت زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار بڑھنے سے شہریوں کو آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات نظامِ تنفس میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے تک آلودگی کا سامنا صحت کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں وقت گزارنے سے گریز کریں اور باہر نکلتے وقت مناسب حفاظتی ماسک استعمال کریں۔ بچوں، بزرگوں اور دمے سمیت سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ فضائی آلودگی ان کی علامات میں شدت پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق آلودگی کی موجودگی میں کھلی فضا میں ورزش اور سخت جسمانی سرگرمیاں کرنے سے آلودہ ذرات زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، جس سے سانس کے مریضوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کھانسی، سانس پھولنے یا سینے میں جکڑن جیسی علامات ظاہر ہونے پر طبی مشورہ حاصل کریں۔

دوسری جانب لاہور میں دھوپ نکلنے کے باعث موسم گرم محسوس ہونے لگا۔ شہر میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔