لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ان ڈرائیو بائیک رائیڈر کی جانب سے خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے باعث خاتون نے خود کو بچانے کے لیے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے جوہر ٹاؤن کے علاقے ایف ٹو سے وتو پیلس جانے کے لیے ان ڈرائیو بائیک رائیڈ بک کروائی تھی۔ سفر کے دوران بائیک رائیڈر کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر خاتون خوفزدہ ہوگئی اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی۔
خاتون کے چہرے اور سر پر چوٹیں آئیں
پولیس کے مطابق چلتی موٹر سائیکل سے گرنے کے نتیجے میں خاتون کے منہ، ناک، گلے اور سر پر چوٹیں آئیں۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کو پیش آنے والی صورت حال کی اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچائی گئی، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے، جس سے متعلقہ حکام واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس نے ملزم نعیم کو گرفتار کر لیا
جوہر ٹاؤن انویسٹی گیشن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم نعیم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس افسر سید ذیشان رضا کے مطابق واقعے کا مقدمہ متاثرہ خاتون کے بھائی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جا سکیں۔
خواتین کے تحفظ سے متعلق سوالات
لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے نے آن لائن بائیک رائیڈ سروسز استعمال کرنے والی خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے ایسے واقعات کی روک تھام اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔خواتین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ رائیڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ڈرائیوروں کی تصدیق، شکایات پر فوری کارروائی اور ہنگامی مدد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔