یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑی کارروائیاں، 218 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑی کارروائیاں، 218 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

صنعاء: یمن میں حکومتی فورسز نے حوثی باغیوں کے خلاف 750 سے زائد کارروائیوں میں بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

 یمنی مسلح افواج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں 218 حوثی جنگجو ہلاک اور 78 گاڑیاں تباہ یا ناکارہ بنا دی گئیں۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور بحری اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔یمنی مسلح افواج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوؤں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا اور ان کی کارروائیوں کو محدود کرنا تھا۔ترجمان کے مطابق کارروائیوں میں حوثیوں کی کمک پہنچانے کی کوششوں، جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور رسد کے نظام کو بھی ہدف بنایا گیا۔ ان کے بقول گاڑیوں کی تباہی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں متاثر ہوئی ہیں۔تاہم حکومتی فورسز کی جانب سے ہلاکتوں اور تباہ ہونے والی گاڑیوں سے متعلق ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

حوثیوں کا سعودی عرب میں جوابی حملوں کا دعویٰ
دوسری جانب حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں جوابی کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے حملوں میں ریاض کے ہوائی اڈے، خمیس مشیط کے ایئربیس اور جازان میں واقع نیول بیس کو نشانہ بنایا گیا۔حوثیوں کے اس اعلان سے یمن کے تنازع میں علاقائی کشیدگی بڑھنے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان مبینہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان، استعمال کیے گئے ہتھیاروں اور اہداف کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔سعودی عرب کی جانب سے بھی ان حملوں کے حوالے سے کسی ردعمل یا نقصان کی تصدیق کی تفصیلات فراہم کردہ اطلاعات میں موجود نہیں ہیں۔

یمن میں کشیدگی اور علاقائی سلامتی
یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری تنازع طویل عرصے سے ملکی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ سعودی عرب بھی اس تنازع سے متاثر ہونے والے اہم علاقائی فریقوں میں شامل رہا ہے، جبکہ سعودی سرزمین یا تنصیبات پر حملوں کے دعوے صورت حال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔