دھرنے اور احتجاج سے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے: سرفراز بگٹی

دھرنے اور احتجاج سے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے: سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ دھرنے اور احتجاج کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک صوبے سے وفاق پر چڑھائی کرنا نہ صرف نامناسب بلکہ قابل مذمت بھی ہے، اور اس طرح کے اقدامات ملک میں انتشار کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

کاروباری کمیونٹی کے مسائل پر بات چیت:
سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہے جو صوبائی سطح پر ممکن ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ وفاقی حکومت سے کاروباری برادری کے مسائل پر بات کریں گے تاکہ ان کے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

اسمگلنگ کے خلاف مؤقف:
انہوں نے واضح کیا کہ اسمگلنگ کو قانونی تجارت نہیں کہا جا سکتا اور یہ عمل صرف چند افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے جبکہ معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ حکومت ایسے غیر قانونی کاموں کی حوصلہ شکنی کرے گی اور ان تاجروں کی حمایت کرے گی جو قانونی طور پر کام کرتے ہیں۔

اغوا کے واقعات پر ردعمل:
وزیر اعلیٰ نے حالیہ اغوا کے واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھرنے سے اغوا ہونے والے بچوں کی بازیابی ممکن ہوتی، تو وہ خود بھی دھرنے میں شامل ہو جاتے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ضروری ہے۔

امن و امان کی صورتحال پر بات:
سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن و امان کی مجموعی صورتحال پر وزیر اعظم سے بات چیت ہوئی ہے اور حکومت ان تمام اقدامات کی حمایت کرے گی جو عوام کی بہتری اور معاشی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔یہ بیان بلوچستان میں موجودہ سیاسی اور سماجی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا ہے، جہاں عوامی مسائل اور سیکیورٹی کے چیلنجز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔