پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سیدھے فائر کیے: آئی جی اسلام آباد

پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سیدھے فائر کیے: آئی جی اسلام آباد

اسلام آباد میں حالیہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے احتجاج کے دوران ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر محمد علی رندھاوا نے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

 پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ احتجاج اور دہشت گردی میں واضح فرق ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سیدھی فائرنگ کرنا دہشت گردی کی ایک کارروائی تھی، جو کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا بیان:
احتجاج اور دہشت گردی میں فرق: آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن احتجاج کے نام پر دہشت گردی کی کارروائیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر براہ راست فائرنگ کی، جو کہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی۔
گرفتاریاں اور اسلحہ:

انہوں نے بتایا کہ 610 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور 200 سے زائد گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ مظاہرین کے ساتھ اسلحہ بھی تھا، جس کا مقصد احتجاج کو دہشت گردانہ شکل دینا تھا۔
شہادتیں:

انہوں نے کہا کہ رینجرز کے تین جوان شہید ہوئے اور اس کے علاوہ مظاہرین میں غیر ملکی باشندوں کی موجودگی بھی تشویش کا باعث ہے۔ گزشتہ روز 19 افغان شہری گرفتار ہوئے ہیں۔ آئی جی نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں بغیر این او سی کے افغان شہریوں کو رہنے کی اجازت نہیں ہے۔
چیف کمشنر محمد علی رندھاوا کا بیان:
افغان شہریوں کے خلاف کارروائی: چیف کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی شہری امن و امان کا مسئلہ پیدا کرتا ہے تو وہ پاکستان میں نہیں رہ پائے گا۔
احتجاج کا طریقہ کار:

محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ اسلام آباد میں احتجاج کرنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار موجود ہے اور پی ٹی آئی کو احتجاج کے لیے سنگجانی کی جگہ دی گئی تھی، جس پر وہ احتجاج کر سکتے تھے۔
سیکیورٹی انتظامات:

 چیف کمشنر نے بتایا کہ اسلام آباد میں احتجاج کے دوران سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مستحکم کیا گیا ہے۔ تمام روٹس کلیئر کر دیے گئے ہیں اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ غیر ملکیوں کو نکالا جا سکے جو امن و امان کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
اسلام آباد کی صورتحال:
گرفتاریاں اور کارروائیاں: اسلام آباد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 610 افراد کو گرفتار کیا۔ ان افراد کے خلاف دہشت گردی اور امن و امان کے خلاف کارروائیاں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔غیر ملکی افراد کی موجودگی: پولیس نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ احتجاج میں غیر ملکی افراد بھی شریک تھے، جن میں افغان شہری بھی شامل تھے۔ ان افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ان کو پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مستقبل کی حکمت عملی:
پاکستان میں غیر ملکیوں کے خلاف سخت اقدامات: حکام نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر غیر ملکی افراد پاکستان میں دہشت گردی یا کسی بھی قسم کے امن و امان کے مسائل پیدا کرتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پریس کانفرنس میں یہ پیغام دیا گیا کہ اسلام آباد میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا غیر قانونی کارروائیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔