آج صبح، ۲۷ مئی ۲۰۲۵ کو ایران کے شہر شیراز میں جج احسان باقری کو دو مسلح حملہ آوروں نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ اپنی عدالت جانے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔
یہ واقعہ کرمنل کورٹ نمبر ۲ کی برانچ ۱۰۲ کے سربراہ جج احسان باقری کے ساتھ پیش آیا، جو ۳۸ سالہ تجربہ کار جج تھے اور ۱۲ سال سے عدلیہ سے وابستہ تھے۔ حکام نے اس حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے، تاہم حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔
واقعے کی تفصیلات:
مقام: شیراز، فارس صوبہ
حملہ آوروں کی تعداد: ۲
حملے کا طریقہ: مسلح حملہ
جج احسان باقری کا پس منظر: پہلے پراسیکیوٹر اور تفتیش کار رہ چکے ہیں، جنہوں نے کئی شہروں میں خدمات انجام دیں۔
مقصد: حملے کے محرکات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے۔
حکومتی ردعمل:
ایرانی عدلیہ نے اس حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ مقامی حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل:
اس واقعے پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی عدلیہ کے اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔