روہیل اکبر
پاکستان میں جب بھی عام آدمی کے مفت اور فوری انصاف کی بات ہوتی ہے تو ایک نام پوری آب و تاب سے سامنے آتا ہے وفاقی محتسب (وفاقی محتسب سیکریٹریٹ) یہ ادارہ اپنے 43 سال مکمل کر چکا ہے یہ 43 برس دراصل طاقتور ریاستی مشینری اور کمزور شہری کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں وفاقی محتسب کا قیام 24 جنوری 1983ء میں عمل میں آیاجسکا مقصد شہریوں کو وفاقی سرکاری اداروں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے ایک ایسا فورم فراہم کیا جائے جہاں نہ فیس ہو، نہ وکیل کی شرط اورنہ ہی پیچیدہ عدالتی کارروائی وقت نے ثابت کیا کہ یہ تصور محض ایک آئینی تجربہ نہیں بلکہ عوام کے لیے ایک عملی سہارا ثابت ہوا ابتدائی برسوں میں یہ ادارہ محدود دائرہ اختیار اور کم عوامی آگاہی کے باعث سست رفتاری کا شکار رہا مگر وقت کے ساتھ ساتھ وفاقی محتسب نے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور اس ادارے کو حقیقی معنوں میں عوام دوست بنانے کا سہراگرا کسی شخصیت کے سر جاتا ہے تو وہ ہیں قریشی صاحب جنکی وجہ سے آج یہ ادارہ بجلی، گیس، ٹیلی کمیونیکیشن، بینکنگ، نادرا، پاسپورٹ، پنشن، ایف بی آر سمیت درجنوں وفاقی اداروں کے خلاف عوامی شکایات کا فیصلہ کر رہا ہے۔ وفاقی محتسب کی سب سے بڑی خوبی اس کا انسان دوست کردار ہے یہاں ایک ریٹائرڈ پنشنر، ایک بیوہ، ایک مزدور یا ایک طالب علم سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں کسی سفارش، کسی دباؤ اور کسی سیاسی اثر کے بغیر صرف حق اور قانون کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں یہی وہ پہلو ہے جس نے اس ادارے کو عوام میں غیر معمولی اعتماد بخشا ہے گزشتہ چند برسوں میں وفاقی محتسب نے خود کو ڈیجیٹل دور سے بھی ہم آہنگ کیا آن لائن شکایات، ویڈیو لنک سماعتیں، موبائل رجسٹریشن سینٹرز اور ریجنل دفاتر کے قیام نے دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے انصاف کے دروازے کھول دیے ہیں اب شکایت درج کرانے کے لیے اسلام آباد آنا ضروری نہیں رہا یہی اصل عوامی خدمت ہے وفاقی محتسب کے ادارہ جاتی خدوخال میں غیر جانبداری، تیز انصاف اور عملدرآمد بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں یہاں فیصلے صرف فائلوں میں بند نہیں رہتے بلکہ متعلقہ اداروں کو ان پر عملدرآمد کا پابند بھی بنایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر وفاقی ادارے محتسب کے فیصلوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وفاقی محتسب نے نہ صرف شہریوں کو ریلیف دیا بلکہ سرکاری اداروں کو بھی اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور کیا جب اداروں کو معلوم ہو کہ ان کی بدانتظامی پر بازپرس ہو سکتی ہے تو خود بخود نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے اس طرح وفاقی محتسب بالواسطہ طور پر گڈ گورننس کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے 43 سال مکمل ہونے پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وفاقی محتسب محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تحفظ کا احساس ہے وہ احساس جو ایک عام شہری کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ریاست اس کی آواز سننے کے لیے موجود ہے آج جب ملک کو اداروں پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے تووفاقی محتسب جیسے ادارے امید کی کرن ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے کو مزید بااختیار بنایا جائے عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ برسوں میں بھی وفاقی محتسب عوامی خدمت کی یہ روایت اسی شان سے قائم رکھ سکے کیونکہ اصل ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے کمزور شہری کے ساتھ کھڑی ہو—اور وفاقی محتسب گزشتہ 43 برس سے یہی کردار ادا کر رہا ہے اس وقت ہیڈ آفس اسلام آباد سمیت ملک بھر میں وفاقی محتسب کے 28 علاقائی دفاتر اور شکایات مراکز فعال طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں وفاقی محتسب کے قیام کے 43 سال مکمل ہونے پر وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کا کہنا ہے کہ افسران اور عملے کی مسلسل محنت، لگن اور پیشہ ورانہ کاوشوں کے باعث وفاقی محتسب کا ادارہ ملک میں گڈ گورنس کی ایک مضبوط مثال بن کر ابھرا ہے، جس پر عوام الناس کا بھرپور اعتماد قائم ہو چکا ہے ادارے نے سرکاری دفاتر میں شفافیت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے عوام کو ان کی دہلیز پر فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ادارے کی رسائی میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بھی موثر ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے 43 سالہ سفر کے دوران وفاقی محتسب کے ادارے نے ساڑھے 25 لاکھ سے زائد خاندانوں کی شکایات کا ازالہ کیا جن میں اکثریت معاشرے کے پسے ہوئے طبقات سے تعلق رکھتی ہے سال 2025ء کے دوران وفاقی محتسب کے ادارے نے 2 لاکھ 61 ہزار 101 شکایات کے فیصلے کیے شکایات میں مسلسل اضافہ نئے علاقائی دفاتر کے قیام، کھلی کچہریوں کے انعقاد اور انٹیگریٹڈ ریجنل ڈائریکٹوریٹ (IRD) جیسے اقدامات کا نتیجہ ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کا وفاقی محتسب کے ادارے پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے ادارے کی موجودہ کامیابیاں ہیڈ آفس اور علاقائی دفاتر میں کام کرنے والے افسران اور عملے کی انتھک محنت کا نتیجہ ہیں وفاقی محتسب کا ادارہ آنے والے دنوں میں مزید مضبوط اور موثر ہوتا چلا جائے گا۔ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اگر کسی ادارے نے عام آدمی کو طاقتور طبقات کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا ہے تو وہ وفاقی محتسب اعجاز قریشی ہیں اعجاز قریشی نے جب وفاقی محتسب کا منصب سنبھالا تو یہ ادارہ اگرچہ آئینی طور پر مضبوط تھا مگر عوامی سطح پر اس کی رسائی محدود سمجھی جاتی تھی شکایات کے اندراج، فیصلوں میں تاخیر اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کی مشکلات ایک بڑا چیلنج تھیں مگر اعجاز قریشی نے نہ صرف ان رکاوٹوں کو سمجھا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ادارے کی سمت ہی بدل دی انہوں نے سب سے پہلے عوامی رسائی کو ترجیح دی آن لائن شکایات کا نظام مؤثر بنایا گیا موبائل اور ریجنل دفاتر کو فعال کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ایک غریب شہری بھی بغیر وکیل، بغیر سفارش اور بغیر کسی خوف کے اپنی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچا سکے آج صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں شہری بلا معاوضہ انصاف حاصل کر رہے ہیں جو ماضی میں صرف ایک خواب تھااعجاز قریشی کی قیادت میں وفاقی محتسب نے ریکارڈ تعداد میں شکایات کا فیصلہ کیاپنشن، بجلی، گیس، بینکنگ، نادرا، پاسپورٹ، ایف بی آر اور دیگر وفاقی اداروں کے خلاف عوامی شکایات پر فوری اور مؤثر فیصلے کیے گئے یہ فیصلے صرف فائلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا گیا جو کسی بھی احتسابی نظام کی اصل روح ہے اعجاز قریشی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانی تکریم کو قانون سے بالاتر نہیں بلکہ قانون کے اندر رہتے ہوئے یقینی بناتے ہیں بزرگ پنشنرز ہوں، بیوائیں ہوں یا معذور افراد وفاقی محتسب کے دروازے سب کے لیے یکساں طور پر کھلے نظر آتے ہیں اسی لیے تو آج یہ ادارہ ملک کے بہترین فلاحی اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں شمار ہونے لگا ہے اعجاز قریشی نے ادارے کے اندر بھی اصلاحات کیں افسران اور عملے کو یہ باور کرایا کہ وہ حکمران نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں فائل کلچر کے بجائے فیصلہ کلچر کو فروغ دیا گیا جس کا فائدہ براہِ راست عوام کو ملایہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وفاقی محتسب اعجاز قریشی کی قیادت میں ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں طاقت نہیں دلیل بولتی ہے جہاں سفارش نہیں حق چلتا ہے اور جہاں انصاف صرف نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکا ہے آج جب ملک میں اداروں پر اعتماد کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے وہاں وفاقی محتسب اعجاز قریشی کی خدمات ایک روشن مثال ہیں کہ نیت صاف ہو تو نظام بھی درست کیا جا سکتا ہے یہ خاموش انقلاب شاید سرخیوں میں کم آئے مگر لاکھوں پاکستانیوں کی زندگی میں آسانی پیدا کر چکا ہے اور یہی اصل کامیابی ہے میری صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری سے درخواست ہے کہ وہ اعجاز قریشی کو تاحیات وفاقی محتسب بنادیں تاکہ غریب لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوتی رہیں ۔(تحریر۔روہیل اکبر00923004821200)