صوبائی حکومت کیخلاف احتجاج کا اعلان

عید کے بعد دھرنے اور دمادم مست قلندر ہوگا، ہم ان کو رلائیں گے او راپنا حق بھی لیں گے،گورنر کے پی

پشاور (خصوصی رپورٹ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی وفاق سے خیبرپختونخوا کو پانی کا حصہ نہ دینے کی شکایت کردی۔پشاور ہائیکورٹ بار روم میں وکلاء سے خطاب میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد دھرنے بھی ہونگے اور دمادمست قلندر بھی ہوگا، پھر ہم بتائیں گے کہ صوبائی حکومت کسانو ں،ملازمین اور بلدیاتی نمائندوں کو کیسے حق نہیں دیتی، ہم ان کو رلائیں گے اور ان سے اپنا حق بھی لیں گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے سے پہلے اپنی جماعت کے اندر اتحاد پیدا کرلے، صوبے میں بد انتظامی اور کرپشن کی انتہا ہے، ملازمتوں اور ٹی ایم ایز کی خرید و فروخت کو پہلے ٹھیک کریں، یہ انجمن فارغان ہیں،ان کوکرنے دیں جو کرتے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ فخر ہے کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے قربانی دی اور ملک کو آئین دیا، 18ویں ترمیم پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاس کرائی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پانی کے شیئر کا حصہ نہیں ملا، صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے، دن دیہاڑے ایک گروپ کسی کو بھی اٹھا لیتا ہے، شہریوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، کرم اور ضم اضلاع کے حالات دن بدن بدتر ہو رہے ہیں، سیاسی اختلافات بھلا کر صوبے کے لیے کام کرنا ہو گا، ہم صوبے کی کامیابی اور ترقی چاہتے ہیں، سب سے سستی بجلی ہمارے صوبے میں پیدا ہو رہی ہے، سب سے بڑا ڈیم ہمارے صوبے میں ہے، بجلی اور گیس کی پیداوار ہمارے صوبے میں ہو رہی ہے لیکن سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ بھی یہاں ہو رہی ہے، 2009کے بعد صوبے میں این ایف سی ایوارڈ نہ ہو سکا۔گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ افغانستان کو چند سالوں میں ایک سپر پاور طاقت فتح کرتا ہے، جب وہ افغانستان اسلحہ وہاں چھوڑ جاتا ہے تو وہ اسلحہ ہماری فورسز پر استعمال کیا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں، بارڈر کھلنے سے بہت سارے کاروبار بہتر ہو جائیں گے، ہمارے صوبے میں بہت سارے وسائل موجود ہیں، گورنر ہائوس کے دروازے وکلاء کے لیے کھلے ہیں، وزیر اعظم کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے یہاں کا بھی دورہ کریں، وزیر اعظم یہاں آکر ہماری مشکلات دیکھیں۔