کراچی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم نے عدالت کو پولیس کے مبینہ رویے کے بارے میں بتایا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کہ کسی کو 10 دن تک واش روم جانے نہ دیا جائے۔
ملزم کے الزامات:
سماعت کے دوران ملزم نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے اسے شدید اذیت میں رکھا ہوا ہے اور اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا جا رہا۔ اس نے مزید کہا کہ تھانے میں پولیس اہلکار اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ اس کا جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ہے۔ملزم کا مؤقف تھا کہ وہ پولیس کسٹڈی میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ پولیس اسے مزید اذیت دینے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ اس نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ اسے گزشتہ 10 روز سے واش روم جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عدالتی کارروائی:
ملزم کے بیان پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا ناممکن ہے کہ کوئی شخص 10 دن تک واش روم نہ جائے، اگر ایسا ہوتا تو وہ یہاں کھڑا نہ ہوتا۔
پراسیکیوشن کا مؤقف:
پراسیکیوشٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انتہائی شاطر ہے اور اس کا میڈیکل معائنے ہائی کورٹ کے حکم پر پہلے ہی ہو چکا ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل کی جا سکے۔پراسیکیوشن نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ ملاقاتوں سے تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
عدالتی حکم:
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ملزمان کا میڈیکل چیک اپ کروائے۔ ساتھ ہی عدالت نے کیس میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔