پشاور:مشیر اطلاعات پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اگر فارم 47 کا سہارا نہ لیا جاتا تو آج باپ بیٹی دوبارہ لندن میں ہوتے۔
انہوں نے اپنی بات میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے بعد مخالفین کی بے جا تنقید اس بات کا غماز ہے کہ وہ ہماری کامیابیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ جو حکومتیں عوام کے مینڈیٹ سے نہیں آئیں، ان کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں، اس لیے وہ خیبر پختونخوا کی کارکردگی رپورٹ پر اعتراضات کر رہے ہیں۔انہوں نے شریف خاندان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی کوئی واقعی کارکردگی ہوتی تو انہیں فارم 47 کے ذریعے حکومت نہ بنانی پڑتی۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا میں تیسری بار اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر حکومت میں آئی ہے اور نواز شریف اور مریم نواز اپنی نشستیں ہار چکے تھے۔
اگر فارم 47 کا سہارا نہ لیا جاتا تو آج یہ دونوں دوبارہ لندن میں ہوتے۔بیرسٹر سیف نے خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کو یہ منصوبہ کھٹک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے صوبے بھی اس طرح کے فلاحی منصوبے شروع کریں تو انہیں خوشی ہوگی، تاہم مخالفین کو اشتہارات کی بجائے عوامی فلاحی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ حقیقی کارکردگی خود بولتی ہے اور اس کے لیے اشتہارات کی ضرورت نہیں۔