لاہور ہائی کورٹ نے غیرت کے نام پر بہن کے قتل کے کیس میں بھائی کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
جسٹس امجد رفیق نے مجرم ایاز عادل کی اپیل منظور کی اور کہا کہ پولیس کے سامنے دیا گیا اعترافی بیان موجودہ قانون میں قابلِ قبول شہادت نہیں ہے۔ عدالت نے شواہد اکٹھا کرنے اور پیش کرنے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے پراسیکیوشن کی ناکامی کو بھی نوٹ کیا۔لاہور ہائی کورٹ نے قتل کے اعترافی بیانات کو قانونی طور پر قابل قبول بنانے کے لیے قانون سازی کی تجویز دی۔ یاد رہے کہ سیشن کورٹ نے ایاز عادل کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔