پی ٹی آئی 31 جنوری مذاکرات نتیجہ کی ڈیڈ لائن

 علی امین اور مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ،بانی پی ٹی آئی عدالتوں سے رہائی چاہتے پیپر سائن کر کے نہیں ، کمیٹی 
راولپنڈی (خصوصی رپورٹ )بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مذاکرات کمیٹی نے مرحلہ وار اڑھائی گھنٹے تک ملاقات کی ۔ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے حتمی نتیجہ کے لئے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کواستحکام دیالیکن ترقی نہیں ہوئی۔ مذاکراتی کمیٹی کے مطابق بانی پی ٹی آئی مقدمات کا سامنا کرکے عدالتوں سے رہائی چاہتے ہیں کوئی پیپر ڈیل سائن کر کے رہائی نہیں چاہتے۔مذاکراتی کمیٹی کے اراکین دن ایک بجکر پچاس منٹ پر اڈیالہ جیل پہنچنا شروع ہوئے جبکہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور الگ پہنچے۔ جیل عملہ نے اراکین کو گیٹ پانچ پر روکے رکھا گیا۔ جس پر وکیل بانی پی ٹی آئی فیصل فرید چودھری نے شدید احتجاج کیا۔ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی سے مذاکراتی کمیٹی کی طے شدہ ملاقات کو نہ روکا جائے، اگرکمیٹی کی ملاقات نہ ہونے دی تو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، ادھر علی امین گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی سے کانفرنس روم میں ون ٹو ون ملاقات جاری رہی ،مذاکراتی کمیٹی کی بانی پی ٹی آئی سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات جاری رہی۔ جیل کے باہر صاحبزادہ حامد رضا نے علامہ ناصر عباس ، عمر ایوب ،سلیمان اکرم راجہ اسد قیصر اور فیصل چودھری کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کی عمر ایوب کی سربراہی میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ترسیلات زر روکنے کی کال جاری رہے گی۔31 جنوری تک مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔حکومتی کمیٹی کو بھی اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان کیلئے اپنے ساتھ ہونے والے ہر سلوک کو معاف کرنے کیلئے تیار ہوں ۔کمیٹی اراکین نے کہا کہ عمران خان کی رہائی بھی کمیٹی کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ادھر سابق وزیر اعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے تسلیم کیا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ آپ تسلیم کررہے ہیں حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ، بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ معیشت اسٹیبلائز ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیعلیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے واضح کیا ہے ملکی معیشت کا بڑا سہارا اورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر ہیں جو پاکستانی ترسیلات زر بھیجتے ہیں ان کے ساتھ بھی زیادتی کی جا رہی ہے۔اورسیز پاکستانیوں کے رشتہ داروں کے گھروں میں بھی ٹیلی فون کالز جا رہی ہیں ،اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم ان کی ملکیت ہے وہ پاکستان نہ بھیجنا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔بانی پی ٹی ائی نے تو صرف اورسیز پاکستانیوں کو کال دی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی ائی نے کہا ہے کہ جب ہماری مذاکراتی کمیٹی کے دو مطالبات پر سنجیدگی دکھائی جائے گی تب ہم ترسیلات زر روکنے کی کال واپس کریں گے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ملٹری ٹرائل میں لوگوں کو سزائیں اس لیے دی گئی کہ وہ نو مئی کو اوپن ٹرائل کر ہی نہیں سکتے۔اس قسم کی ملٹری کورٹ سے سزائیں ملی ہے کہ اپ انہیں کھلے عام بتا نہیں سکتے۔اگر انہوں نے ملٹری کورٹ میں کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی ہے تو وہ ہمیں بھی دکھا دیں،عوام کو بھی دکھا دیں۔بانی پی ٹی ائی نے کہا ہے کہ سب قیدیوں کو رہا کریں اگر مجھے جیل میں رکھنا ہے تو رکھ لیں۔میں ہائوس اریسٹ میں نہیں جائوں گا۔بانی پی ٹی ائی اپنے مقدمات کا سامنا کر کے خود کو بے گناہ ثابت کریں گے اور پھر باہر نکلیں گے۔وہ ہائوس اریسٹ پر جا کر قید سے باہر نہیں آئیں گے۔ پانی پی ٹی ائی کو افغانستان میں ایئر فورس کے جہازوں سے بمباری پر دکھ ہوا ہے بانی پی ٹی ائی نے کہا کہ بڑی دیر کے بعد پاکستان میں امن آیا تھا کیونکہ افغانستان میں امن آیا تھا۔افغانستان کا امن پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے،اگر اپ وہاں جا کر اس طرح کی چیز کریں گے اور بارڈر پر انتشار ہوگا تو پاکستان کا امن بھی س سے متاثر ہوگا۔