آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے فیصلہ کن مقابلے سے قبل کینگروز کو اہم کھلاڑی اسٹیو اسمتھ کی فٹنس کے حوالے سے تشویش کا سامنا ہے، جبکہ خراب کارکردگی کے باعث نِک میڈنسن کو ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے۔
اسٹیو اسمتھ گردن کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں ان کی شرکت کا فیصلہ مکمل نیٹ سیشن کے دوران فٹنس جانچنے کے بعد کیا جائے گا۔آسٹریلوی ہیڈ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اسمتھ اگلے میچ کے لیے مکمل طور پر فٹ ہوسکیں گے یا نہیں۔ ان کی دستیابی کا انحصار نیٹ سیشن میں کارکردگی اور طبی جائزے پر ہوگا۔
نِک میڈنسن کی جگہ میٹ رینشا کو موقع ملنے کا امکان
دوسری جانب نِک میڈنسن کی سیریز میں کارکردگی مایوس کن رہی، جہاں وہ چار اننگز میں صرف 56 رنز بنا سکے۔ اس کارکردگی کے بعد انہیں ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے۔میڈنسن کی جگہ میٹ رینشا کو ٹریوس ہیڈ کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے کا موقع ملنے کی توقع ہے۔ میڈنسن اب شیفیلڈ شیلڈ کے آئندہ میچ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا واپس روانہ ہوں گے۔
سیم ہارپر بھی وطن واپس روانہ ہوں گے
آسٹریلوی وکٹ کیپر سیم ہارپر بھی دورہ چھوڑ کر وطن واپس جا رہے ہیں تاکہ وکٹوریہ کی نمائندگی کرتے ہوئے شیفیلڈ شیلڈ کا میچ کھیل سکیں۔ادھر انگلی کی انجری سے صحت یاب ہونے والے جوش انگلس کو وکٹ کیپنگ کے لیے فٹ قرار دے دیا گیا ہے، جس سے آسٹریلوی ٹیم کو وکٹ کیپر کے انتخاب میں سہولت مل سکتی ہے۔
اسمتھ دستیاب نہ ہوئے تو لبوشین کو برقرار رکھنے کا امکان
اگر اسٹیو اسمتھ فیصلہ کن ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہ ہوئے تو مارنس لبوشین کو ٹیم میں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔ سلیکٹرز ان کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں اور حتمی فیصلہ ٹیم کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔آسٹریلیا کے چیئرمین سلیکٹرز جارج بیلی نے واضح کیا ہے کہ نِک میڈنسن کو ٹیم سے باہر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کا خاتمہ ہوگیا ہے۔