اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوج کے سربراہ ایال زامیر کے درمیان ایران کے معاملے پر شدید اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران سے متعلق معاملات پر سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان اختلافات کی خبریں درست نہیں۔ انہوں نے ان رپورٹس کی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں۔
انتخابات سے پہلے حملے کا ارادہ نہیں تھا، اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر حملہ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق اسرائیل پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کر چکا تھا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔وزیر دفاع نے اپنے بیان میں ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کے مؤقف کو دہرایا، تاہم انہوں نے مستقبل میں ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت یا نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نیتن یاہو اور فوجی سربراہ کے درمیان اختلافات کی رپورٹ
اسرائیل کاٹز کا یہ بیان اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوج کے سربراہ ایال زامیر کے درمیان ایران کے معاملے پر غیر معمولی محاذ آرائی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔رپورٹ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم وزیر دفاع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان اختلافات سے متعلق خبریں غلط ہیں۔
ایران سے متعلق اسرائیل کا مؤقف
اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کی جانب سے حملے کی صورت میں طاقت کے استعمال کے اپنے اعلان کردہ مؤقف پر قائم ہے۔ تاہم، انتخابات سے قبل حملے کے کسی منصوبے کی تردید اور مستقبل کی فوجی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلات نہ دینے کے باعث ایران سے متعلق اسرائیل کے آئندہ اقدامات پر مزید وضاحت سامنے نہیں آئی۔